پاکستان میں ڈرائیونگ ٹیسٹ کے روایتی طریقہ کار میں انقلابی تبدیلی آ گئی، لاہور میں پہلی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) بیسڈ ڈرائیونگ ٹیسٹ کار تیار کرلی گئی ہے جو جدید سینسرز اور کیمروں سے لیس ہے۔
تفصیلات کے مطابق گاڑی کے ذریعے ڈرائیونگ ٹیسٹ کا عمل انسانی مداخلت کے بغیرخودکارسسٹم کے تحت مکمل ہوگا، گاڑی کے اندرایک فیشل ریکگنائزیشن کیمرہ نصب ہے جو امیدوارکی شناخت اورحاضری کو یقینی بنائے گا۔
گاڑی کے باہر چار جدید کیمرے لگائے گئے ہیں جو ڈرائیونگ کے دوران امیدوار کی کارکردگی کو مانیٹر کریں گے اس کے علاوہ گاڑی کے ڈیش بورڈ میں ایک بائیو میٹرک مشین بھی موجود ہے جس پرامیدوارفنگرپرنٹ کے ذریعے اپنی شناخت درج کر سکے گا۔
نئے سسٹم میں یہ سہولت بھی شامل ہے کہ جیسے ہی امیدوارگاڑی میں بیٹھے گا، ایک آٹومیٹڈ فیچر کے ذریعے ڈرائیونگ ٹیسٹ سے متعلق ہدایات گاڑی کی اسکرین پرمہیا ہو جائیں گی اس طرح امیدوار کو مرحلہ وارمکمل رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پاسپورٹ بندش کے معاملے پر عدالت جائیں گے، شیخ وقاص اکرم
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے ڈرائیونگ ٹیسٹ کا عمل شفاف، معیاری اورعالمی معیار کے مطابق ہو جائے گا جبکہ ٹیسٹ میں کسی قسم کی جانبداری یا انسانی غلطی کے امکانات بھی ختم ہو جائیں گے۔
