ایشیا کپ کے اہم ترین مقابلے سے قبل پاک بھارت کھلاڑیوں کے رویے اور میدان میں برتاؤ پر ایک نیا سوال سامنے آیا ہے۔
صحافی نے بھارتی بیٹرسوریا کمار یادو اورپاکستانی آل راؤنڈر سلمان علی آغا سے یہ اہم سوال کیا حالیہ کشیدہ سیاسی حالات کے پیشِ نظرکھلاڑیوں کو جذبات قابو میں رکھنے اوربرداشت کا مظاہرہ کرنے کی خصوصی ہدایات دی جانی چاہئیں؟
سوریا کماریادو نے اس بات کو واضح کیا کہ جارحیت کرکٹ کا ایک لازمی جزو ہے، خاص طورپربولرزکیلئے انکا کہنا تھا، جب ہم میدان میں اترتے ہیں توجوش اورجارحیت ایک قدرتی ردعمل ہوتے ہیں بغیراسکے کھیل میں شدت نہیں آتی۔
پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے بھی اس مؤقف کی تائید کی اورکہا ہرکھلاڑی کا اندازمختلف ہوتا ہے اگرکوئی جارحیت دکھاتا ہے مگرکھیل کے اصولوں کے دائرے میں رہتا ہے تواسے روکا نہیں جانا چاہیے۔
دونوں کپتانوں نے اس بات پرزوردیا کہ کرکٹ ایک مہذب کھیل ہے اوراس میں کھیل کی روح اورضوابط کا احترام ہر کھلاڑی کی ذمہ داری ہے۔
ایشیا کپ کی فاتح ٹیم کو 3 لاکھ ڈالر ملنے کا امکان
ان کا کہنا تھا کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے اورمیدان میں صرف کارکردگی ہی بولنی چاہیے، یہ بیان کھیل کے شائقین کویہ پیغام دیتا ہے کہ پاک بھارت مقابلے صرف جوش کا نہیں، شعوراورپیشہ ورانہ طرزِعمل کا بھی مظہر ہونے چاہییں۔
