چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردارکیا ہے کہ اگرموجودہ ماحولیاتی حالات برقرار رہے تو اگلے 50 برسوں میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں موجود 50 سے 60 فیصد گلیشیئرز ختم ہو سکتے ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق شمالی پہاڑوں اور دریاؤں سے جڑے تقریباً 200 ملین افراد کی زندگی براہ راست متاثر ہوسکتی ہے، ملک کواس وقت مون سون بارشوں اور دریاؤں میں آنے والے شدید سیلابی ریلوں کی ایک منفرد اورغیرروایتی صورتحال کا سامنا ہے، جس نے قدرتی نظام کو عدم توازن کا شکار کر دیا ہے۔
پسرور سیالکوٹ روڈ پر گنہ کے قریب پُل ٹوٹ گیا
انہوں نے مزید کہا کہ نصف مون سون کے بعد آزاد کشمیر اورملک کے وسطی علاقوں میں غیر معمولی بارشیں متوقع ہیں، جو زمینی کٹاؤ، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے خطرات کو بڑھا سکتی ہیں۔
ہیٹ ویو کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرمین نے بتایا کہ درجہ حرارت میں اضافے کے سبب گلیشیئرزکے پگھلنے کی رفتار میں بھی تیزی آ رہی ہے، جونہ صرف دریاؤں کے بہاؤ کو متاثرکریگی بلکہ پانی کے ذخائراور زراعت کیلئے بھی سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
