پاکستان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے فروغ کے لئے نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس فنڈ (این اے آئی ایف) قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے آگنائٹ کے ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ فنڈز کا 30 فیصد حصہ مستقل طور پر این اے آئی ایف کو منتقل کیا جائے گا، تاکہ مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے لئے فنڈز کی ایک مستحکم فراہمی یقینی بنائی جا سکے، یہ اقدام ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996 (ترمیم شدہ 2006) کے تحت ممکن بنایا گیا ہے۔
گاڑیوں کی خریداری ،بینکوں کی جانب سے قرضہ جات کی فراہمی میں25فیصد اضافہ
اس فنڈ کے ذریعے پاکستان میں یونیورسٹیز، صنعتوں ، آئی ٹی اسپن آفز اور اسٹارٹ اپس کو مالی مدد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اے آئی پر مبنی منصوبے اور پائلٹ پروجیکٹس کا تجزیہ کرکے اختراعات کو کمرشلائز کر سکیں۔
اسی منصوبے کے تحت ملک کے بڑے شہروں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کئے جائیں گے، مرکزی مراکز اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں جبکہ ریجنل حبز پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد اور حیدرآباد میں بنیں گے، جن میں جدید لیبارٹریز، نئی ٹیکنالوجی اور ماحول دوست حل دستیاب ہوں گے۔