الاسکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی اہم اور طویل ملاقات تقریباً تین گھنٹے جاری رہی، یوکرین جنگ اورعالمی امن کے دیگرموضوعات پرکھل کربات چیت ہوئی اور کئی نکات پراتفاق ہو گیا تاہم یوکرین جنگ بندی کا باضابطہ اعلان نہ ہو سکا۔
امریکی صدرنے پریس کانفرنس میں کہا کہ ملاقات نتیجہ خیز اور تعمیری رہی ، کئی نکات پر ہم متفق ہو گئے ہیں، چند پرمزید بات چیت باقی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا
انہوں نے کہا کہ ایک نکتہ ایسا ہے جس پرہم متفق نہیں ہو سکے اوروہ بہت اہم ہے وہ روسی صدر سے رابطہ جاری رکھیں گے اور جلد فون کالزکا آغازکریں گے۔
ولادیمیر پیوٹن نے بھی ملاقات کوخوشگوار، تعمیری اور دوستانہ قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ روس اس جنگ کو ختم کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین ملاقات کا بنیادی موضوع تھا اوراس پر مفاہمت حاصل ہو گئی ہے، دونوں رہنماؤں کی اگلی ملاقات ماسکو میں جلد متوقع ہے اورانہیں امید ہے کہ یہ روس امریکا تعلقات کی بحالی کا نیا آغاز ہو گا، پریس کانفرنس کے مقام پر ’’امن کی تلاش‘‘ کا بینرنمایاں طور پرآویزاں تھا۔
