روس اب زمین سے درمیانے (1,000–5,500 کلومیٹر) اور کم فاصلے (500–1,000 کلومیٹر) تک مار کرنے والے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی تیاری، جانچ یا تعیناتی پرخود پرعائد پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا۔
روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ وہ حالات جن کی بنیاد پرماسکو نے یکطرفہ طور پرپابندیاں برقراررکھی تھیں، اب تبدیل ہو چکے ہیں۔
امریکی و برطانوی وزرائے خارجہ کا رابطہ، عالمی تنازعات پر مشاورت
بیان کے مطابق نیٹو اورامریکا کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیے جانے والے روسی انتباہات کے بعد ماسکو اس نتیجے پر پہنچا کہ INF معاہدے کی یکطرفہ پاسداری غیرمؤثر ہے۔
وزارت نے دعویٰ کیا کہ امریکا نہ صرف ان میزائلوں کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ انہیں یورپ، ایشیا اور بحرالکاہل میں تعینات کرنے کے انتظامات بھی کررہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملکی قیادت امریکی و مغربی میزائلوں کی تعیناتی کے مطابق “مناسب جوابی اقدامات” کرے گی، پیوٹن نے بھی خدشہ ظاہرکیا تھا کہ امریکی میزائل ڈنمارک اورفلپائن تک لائے جا چکے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا INF معاہدے سے 2019 میں یکطرفہ طور پرعلیحدہ ہو چکا ہے۔
