گونج صرف ایک ڈرامہ نہیں‘ ایک تحرک ہے، ایک احتجاج ہے‘ ایک صدا ہے جو صدیوں سے دبائے گئے جذبات، سوالات اور سچائیوں کو زبان عطا کرتی ہے۔
ہم ٹی وی کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ شاہکار معاشرے کی ان پرتوں کو بے نقاب کرتا ہے جنہیں عموما ً مہذب خاموشی کے پردے میں چھپا دیا جاتا ہے۔ گونج ان خاموش صداؤں کو زبان دیتا ہے جو برسوں تک صرف دل کی دیواروں سے ٹکرا کر رہ جاتی تھیں۔
یہ ڈرامہ ہمیں زرناب کی آنکھوں سے وہ دنیا دکھاتا ہے جس میں ایک عورت کو اپنے حق کے لیے‘ اپنی پہچان کے لیے‘ اپنی آزادی کے لیے‘ ہر قدم پر جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ کومل میر کا کردار ’’زرناب‘‘ نہ صرف متاثر کن ہے بلکہ نئی نسل کی لڑکیوں کے لیے مشعلِ راہ بھی ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت کی نمائندگی کرتی ہے جو نہ تو روایتی انداز میں خوفزدہ ہوتی ہے اور نہ ہی سماجی دباؤ کے سامنے جھکتی ہے۔
سچ کی تلاش میں بُنے گئے جھوٹ۔۔۔ یہ ہے ایک جھوٹی کہانی
زرناب ایک متوسط طبقے کی تعلیم یافتہ‘ ذہین‘ تخلیقی اور خوددار لڑکی ہے۔ اس کا پس منظر اگرچہ روایتی ہے لیکن اس کی پرورش میں ایک جدت ہے‘ وہ جدت جو عورت کو محض بیٹی یا بہن نہیں‘ ایک مکمل انسان مانتی ہے۔ بچپن میں ماں کا سایہ کھو دینا کوئی چھوٹا سانحہ نہیں لیکن ایک مہربان‘ اصول پسند اور روشن خیال باپ نے زرناب کو کمزور کے بجائے طاقتور بننا سکھایا۔
زرناب نہ صرف تحریر، ڈیزائن اور برانڈنگ جیسے تخلیقی شعبوں میں مہارت رکھتی ہے بلکہ وہ اپنے نظریات اور اقدار پر بھی مضبوطی سے قائم ہے۔ ایک معتبر ادارے میں اپنی محنت سے جگہ بنانا اور وہاں عزت و ترقی حاصل کرنا بلاشبہ اُس کے عزم کا ثبوت ہے لیکن یہی ترقی یہی خودمختاری بعض کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے۔
ڈرامے کا ایک اہم کردار نبیل ہے جو زرناب کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ نبیل ایک ایسے مرد کا استعارہ ہے جو عورت کی کامیابی کو اپنی شکست سمجھتا ہے‘ جو خود کو طاقتور اسی وقت محسوس کرتا ہے جب عورت خاموش ہو‘ سر جھکا کر چلے اور سوال دراز نہ کرے۔
نبیل کی ہراسانی، جھوٹے الزامات اور سازشوں کے باوجود زرناب ڈگمگاتی نہیں۔ وہ اپنی آواز بلند کرتی ہے اور یہی آواز آخر کار ’’گونج‘‘ بن جاتی ہے۔ایسی گونج جو صرف ایک دفتر یا ایک شخص تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک پورے معاشرے کو جھنجھوڑنے کی طاقت رکھتی ہے۔
گونج کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ یہ صرف ایک ڈرامہ نہیں بلکہ ایک فکری تجربہ ہے۔ رانا قرب عباس کی تحریر ایسی حقیقت پسندانہ عکاسی پیش کرتی ہے کہ ناظرین ہر منظر میں اپنی کہانی تلاش کرنے لگتے ہیں۔ زرناب کی خاموشی، اس کی آنکھوں کی نمی، اس کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی اذیت، سب کچھ اتنا فطری ہے کہ ہر منظر ایک آئینہ نظر آتاہے، ایک ایسا آئینہ جو ہمیں ہمارا سماجی چہرہ دکھاتا ہے۔
ہدایتکار وجاہت رؤف نے اس کہانی کو حقیقت کے اتنے قریب رکھا ہے کہ ہر منظر میں سچائی کی گونج محسوس ہوتی ہے۔ پروڈکشن ویلیو، لوکیشنز، روشنیوں کا انتخاب، مکالمے، اور بیک گراؤنڈ میوزک، سب کچھ ایک دوسرے کے ساتھ اس انداز میں جڑا ہے کہ ایک مکمل، جاندار اور جذبات سے بھرپور ڈرامہ سامنے آتا ہے۔
کومل میر نے زرناب کے کردار میں ایسی جان ڈالی ہے کہ وہ صرف ایک اداکارہ نہیں بلکہ اس کردار کی روح لگتی ہیں۔ ان کی آنکھوں کی زبان، جذبات کی شدت، اور لہجے کی مضبوطی کردار کو حقیقی بنا دیتی ہے۔ گوہر رشید نے بھی نبیل جیسے منفی کردار کو محض ایک ولن نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک بیماری کے روپ میں پیش کیا ہے جو معاشرے میں عام ہے۔
شارجہ میں مداحوں نے گھیر لیا، دن کی روشنی میں اندھیرا لگنے لگا، مرینا خان
دیگر معاون کرداروں میں مشیل ممتاز، علی سفینہ، حرا ترین، شاہین خان، خالد انعم، ایمان سید، فیروز قادری، انیس عالم، صریحا اصغر اور شایان ملک نے بھی اپنے کرداروں سے انصاف کیا ہے۔ ہر کردار ناظرین کو متاثر کرتا ہے اور کہانی کو مضبوط بناتا ہے۔
گونج، صرف زرناب کی نہیں بلکہ ان لاکھوں عورتوں کی کہانی ہے جو روزانہ چھوٹی چھوٹی جنگوں سے نبرد آزما ہوتی ہیں۔ یہ ڈرامہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہراسانی، تعصب، اور ناانصافی صرف ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی ناسور ہے جسے صرف قانون نہیں بلکہ اجتماعی شعور سے ختم کیا جا سکتا ہے۔
یہ ڈرامہ اُن لوگوں کے لیے ایک آئینہ ہے جو عورت کی خودمختاری کو اپنے اور معاشرے کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ ان اداروں کے لیے سوال ہے جو ہراسانی کو “موقع” یا “غلط فہمی” کا نام دے کر نظر انداز کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ اُن عورتوں کے لیے امید ہے جو ابھی تک اپنی آواز پہچاننے سے قاصر ہیں۔
اگر آپ ایسے ڈرامے کی تلاش میں ہیں جو صرف وقت گزاری نہ ہو بلکہ آپ کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دے، سوچنے پر مجبور کرے اور آپ کے دل میں دیرپا اثر چھوڑ جائے، تو “گونج” ضرور دیکھیں۔ یہ صرف کہانی نہیں‘ انقلاب کی ایک پہلی صدا ہے کیونکہ جب ایک عورت بولتی ہے، تو صرف لفظ نہیں نکلتے گونج اٹھتی ہے، اور وہ گونج آخرکار تاریخ کا رُخ موڑ دیتی ہے۔
