کوئٹہ: چیف جسٹس پاکستان کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں غریب سائلین کو مفت قانونی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں اجلاس ہوا۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں بار ایسوسی ایشنز اور لا اینڈ جسٹس کمیشن کے درمیان تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ انصاف کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر غور ہوا۔
اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ، سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کے نمائندے شریک ہوئے۔ چیف جسٹس نے ہر صوبے میں لا کمیشن کے نمائندے تعینات کرنے کا اعلان کر دیا۔ جو ضلعی بارز میں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کریں گے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ ضلعی سطح پر انصاف کے منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد کی ہدایت ہے۔ اجلاس میں کم ترقی یافتہ اضلاع میں بنیادی ڈھانچے کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں غریب سائلین کو مفت قانونی معاونت فراہم کرنے اور وکلا کو ریاست کے خرچ پر 50 ہزار روپے تک معاوضہ دینے کا اعلان کیا گیا۔ قانونی معاونت کا دائرہ سپریم کورٹ تک وسعت دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نئے آسان ٹیکس گوشواروں سے تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ مستفید ہو گا، وزیر اعظم
بارز سے اہل وکلا کے نام نامزد کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اور وکلا کی تربیت کے لیے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے پروگرامز سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا گیا۔ تربیتی کیلنڈر بارز کو وسیع پیمانے پر تقسیم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ کراچی میں ہونے والے اگلے اجلاس میں بارز کے مسائل پر مزید مشاورت ہو گی۔ اور چیف جسٹس نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو انصاف کی بہتری کے لیے مشترکہ کام کا پیغام دیا۔
