کراچی، راولپنڈی میں یومیہ نو بچے لاپتہ ہورہے ہیں، ہم انویسٹی گیشن ٹیم حقائق سامنے لے آئی۔
جب بھی پاکستان میں لاپتہ ہوجانے والے بچوں کی کوئی کہانی سامنے آتی ہے سب سے پہلے ذہن میں ماضی کا ایک اندوہناک واقعہ گھوم جاتا ہے۔
تقریباً پچیس برس پہلے لاہور میں ایک غیر معمولی طور پر ابنارمل شخص جاوید اقبال نے سو بچوں کو انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کرکے اُن کی لاشوں کو تیزاب میں ڈال کر اُن کا نام و نشان تک مٹا ڈالا تھا۔بعد میں جرم ثابت ہونے کے بعد اس کو پھانسی دے دی گئی تھی۔
ہم انویسٹی گیٹس نے پاکستان کے دو بڑے شہروں، راولپنڈی اور کراچی میں کچھ گمشدہ بچوں کے خاندانوں سے ملاقاتیں کی ہیں، اس کے علاہ ان گمشدہ بچوں کے خاندانوں کی مدد کرنے والے اداروں کے سربراہوں سے بات کی ہے، کھوج لگانے کا مقصد یہ تھا کہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ یہ کون چھوٹے بچے اغوا کرتا ہے اور پھر ان بچوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
ہم اپنی سرزمین کو فتنہ الہندُوستان اور اس کے سہولت کاروں سے ہر صورت پاک کریں گے، صدر
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس تین ہزار ستر بچے لاپتہ ہوئے۔ رواں برس اب تک نو سو سے زائد بچے گھروں سے اٹھا لیے گئے جبکہ 2022 میں 1556 بچے اور 1319 بچے 2021 میں لاپتہ ہوئے۔
کراچی کے رہنے والے محمد علی خان کے لیے یہ واقعہ اس کو ہلاکر رکھ دینے کے لیے کافی تھا۔ محمدعلی خان نے کراچی سے لاہور جانے کا فیصلہ کیا جہاں وہ اس جنونی شخص جاوید اقبال سے ملنا چاہتا تھا۔
ہمارے ہاں عام طور پر بچوں کی شناخت اور خاص طور پر بچے کی تعریف متعین کرنے کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے جب کہ قانون کی نظر میں بچوں کی تعریف قدرے وسیع معنوں میں کی جاتی ہے۔
ہم انویسٹی گیشن کی ٹیم نے 2021 سے اپریل 2025 تک لاپتہ اور بازیاب ہوئے بچوں کے اعدادو شمار کو جمع کیا ہے۔
ایک تنظیم روشنی ہیلپ لائن کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق 2021 میں 1,319 بچوں کو اغوا کیا گیا، جن میں سے 1,195 کو بازیاب کروا لیا گیا جبکہ 124 بچے تاحال لاپتہ بازیابی کی شرح 90.6 فیصد رہی۔
2022 میں لاپتہ بچوں کی تعداد بڑھ کر 1,556 ہو گئی، جب کہ بازیاب ہونے والے بچوں کی تعداد 1,238 تھی، اِن میں سے 318 بچے بازیاب نہ ہوسکے۔ بازیابی کی شرح 79.6 فیصد پر آگئی۔
2024 میں لاپتہ ہونے والے بچوں کی تعداد بڑھ کر 3,070 تک پہنچ گئی۔ بازیابی میں زبردست بہتری دیکھی گئی۔ اس سال 3,035 بچے بازیاب ہوئے، صرف 35 بچے لاپتہ تھے۔ بازیابی کی شرح 98.9 فیصد تک پہنچ گئی۔
رواں سال جنوری سے اپریل تک 868 بچوں کے لاپتہ ہو جانے کی رپورٹس لکھوائی گئیں، جن میں سے 742 بچے بازیاب کرا لیے گئے۔111 بچے تاحال لاپتہ ہیں جب کہ 15 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
ہم انویسٹی گیٹس کی ٹیم نے کراچی میں لاپتہ ہوجانے والے بچوں کے والدین سے ملاقاتیں کیں اور اُن کے بچوں کی گمشدگی، اُن کی تلاش میں پیش آنے والی مشکلات اور تازہ ترین صورت حال پر گفتگو کی۔
فرسودہ نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کئے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، وزیر اعظم
یہ ملیر کے رہائشی معصوم علی رضا کی کہانی ہے، رواں سال 14 جنوری کو علی رضا معمول کے مطابق اپنی والدہ کے ساتھ اسکول گیا۔ اسکول سے چھٹی پر معمول کے مطابق اس کی والدہ اس کو لے کر گھر آگئی۔ علی ارشد جو لاپتہ ہوا اور پھر بازیاب ہوگیا، اس کی کہانی میں کئی ایسے موڑ ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے بچے اول تو گم کیسے ہوجاتے ہیں اور پھر خدانخواستہ اگر ایسا ہوجائے تو پھر وہ جلدی بازیاب کیوں نہیں ہو پاتے اور اس میں پولیس سمیت دوسرے اداروں کا کیا کردار ہے اور خاص طور پر کہاں کہاں لاپرواہی کا مظاہرہ ہوتا ہے؟
محمد علی خان بتاتے ہیں کہ ہمارے سماج میں بچوں کو کس قسم کے حالات سے واسطہ پڑتا ہے اور خاص طور پر ہمارے بچوں کو گھر کے محفوظ ماحول میں رہتے ہوئے بھی کس قسم کے نظر نہ آنے والے بیرونی عناصر سے خطرہ رہتا ہے اور وہ کون کون سے اجنبی ہیں جو ہم سب کے گھروں میں خاموشی کے ساتھ داخل ہوجاتے ہیں، ہمارے بچوں کے ساتھ اپنا تعلق بنا لیتے ہیں اور ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اندر ہی اندر کیا چل رہا ہے۔ پھر ایک دن ایک بم پورے خاندان پر گر جاتا ہے لیکن پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔
راولپنڈی کے رہائشی بچے امان اللہ کی کہانی ہمارے لیے خوف کے کئی دروازے کھول دیتی ہے، معصوم امان اللہ کے ساتھ کیا ہوا۔ راولپنڈی کے ہی رہائشی ایک اور بچے کے لاپتہ ہو جانے کی داستان بھی اتنی ہی ہولناک ہے، یہ کہانیاں اتنی خوف ناک ہیں کہ ہم انویسٹی گیٹس کو اس پہ کئی پروگرام کرنے پڑیں گے، روشنی کے نام سے ادارے بنانے والے محمد علی، منیزے بانو بھی ساحل کے توسط سے ان بچوں کے لئے کام کر رہے ہیں، اس کے علاوہ حکومتی ادارے بھی بچوں کی حفاظت کیلیے کام کر رہے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین بچوں کی حفاظت کیلئے کیا کام کر رہے ہیں، اگرسب مل کرکام کریں تو یہ خطرناک صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔
