روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ تہران نے ماسکو سے کسی قسم کی فوجی مدد کی درخواست نہیں کی۔
سینٹ پیٹرزبرگ میں انٹرنیشنل اکنامک فورم کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےروسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ماضی میں روس نے ایران کو فضائی دفاعی نظام میں تعاون کی پیشکش کی تھی مگر ایران نے زیادہ دلچسپی ظاہرنہیں کی۔
کشیدگی میں فوری کمی اور جنگ بندی کی اپیل کرتا ہوں، گوتریس
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات انتہائی مفید ہو سکتی ہے، مثبت نتائج کے لیےایسی کسی ملاقات کیلئے مناسب تیاری ضروری ہے، روس ایران اسٹریٹجک شراکت داری معاہدے میں فوجی تعاون شامل نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے لیے تیار ہوں، چاہتے ہیں کیف سے معاہدے پر قانونی طور پرتسلیم شدہ حکام کے دستخط ہوں،یوکرینی صدر کی حیثیت غیرقانونی ہے تو پورا حکومتی نظام غیرقانونی ہے۔
ایران اسرائیل کشیدگی، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس کل طلب
ٹرمپ درست کہتے ہیں اگر وہ صدر ہوتے تو یوکرین تنازع شروع نہ ہوتا، نیٹو کا دوبارہ مسلح ہونا روس کے لیے کوئی خطرہ نہیں، نیٹوکی کچھ کارروائیاں خطرات پیدا کر سکتی ہیں مگر نمٹنے کیلئے تیارہیں۔
روس ایران کے ساتھ پرامن نیوکلیئر توانائی میں مل کر کام کر سکتا ہے، ماسکو اور تہران کے درمیان تعلقات قریبی اور قابل اعتماد ہیں، 200سے زائد روسی ماہرین ایران میں نیوکلیئر پلانٹ کی تعمیر پر کام کر رہے ہیں۔
