بھارت میں مودی حکومت کی انتہا پسند معاشی پالیسیوں اور پیچیدہ ضوابط کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری میں واضح کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
جنتا دل (سیکولر) کے سینئررہنما ایچ ڈی کمارا سوامی نے مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسیوں کیوجہ سے امریکی کمپنی ٹیسلا نے بھارت میں گاڑیاں بنانے کے منصوبے سے دستبردارہونیکا فیصلہ کیا ہے۔
جنگ ہوتی تو تجارتی معاہدے ختم کر دیتا، جوہری تصادم میری مداخلت سے رکا: ٹرمپ
بھارتی میڈیا کے مطابق ٹیسلا نے مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں، ٹیرف پیچیدگیوں اور قانونی رکاوٹوں کے باعث بھارت میں فیکٹری قائم کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
معتبر اداروں جیسے The Wire اور The Hindu نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسلا کا انکار بھارتی معیشت پر بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کا عکاس ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹیسلا کے فیصلے سے نہ صرف سرمایہ کاری کے مواقع ختم ہوئے بلکہ لاکھوں ممکنہ روزگار کے مواقع بھی ضائع ہوئے۔
یہ صورتحال بھارت کے کاروباری ماحول پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے اور مودی سرکار کی معاشی حکمتِ عملی کی ناکامی کو اجاگر کرتی ہے۔
