سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں گیارہ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، کیس کو یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔
سماعت کے دوران وکیل فیصل صدیقی روسٹرم پر آئے تو جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آپ نظر ثانی کی حمایت کر رہے ہیں یا مخالفت؟جسٹس جمال مندوخیل نے فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو تونظر ثانی کی حمایت کرنی چاہیے تھی۔
وکیل نے کہا کہ ہمارا انداز محبت والا ہے،ہم ہار کر بھی جیت جاتے ہیں،عدالت نے کہا کہ مرکزی کیس میں آپ پی ٹی آئی کے وکیل تھے، سپورٹ سنی اتحاد کونسل کو کر رہے تھے۔ جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ میں جسٹس مندوخیل کے فیصلے کو کسی حد تک سپورٹ کر رہا ہوں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اب سنی اتحاد کونسل والے پی ٹی آئی کو سپورٹ کر رہے ہیں،13ججز نے کہاکہ سنی اتحاد کونسل نشستوں کی حقدار نہیں۔ جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ 12 جولائی کے فیصلے سے سب سے زیادہ متاثرہ آپ تھے۔
ٹرانسفر ججز کیلئے بنیادی اصول کیا اور کیسے طے کیا گیا ؟ سپریم کورٹ کا سوال
اس موقع وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جان بوجھ کر پی ٹی آئی کو فریق نہیں بنایا گیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بینچ میں شامل اکثریت ججز نے مرکزی کیس نہیں سنا، آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئی، الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کیا، ایک آپشن تھا کہ نشستیں سنی اتحاد کونسل کو دی جائیں،دوسرا آپشن تھا کہ تناسب سے ہٹ کر دیگر جماعتوں کو دی جائیں، تیسرا آپشن تھا کہ مخصوص نشستیں خالی چھوڑ دی جائیں،13میں سے 11 ججز نے کہا نشستیں پی ٹی آئی کی بنتی ہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ آٹھ کا نہیں،11 ججز کا فیصلہ تھا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ نظرثانی صرف اقلیتی فیصلے کیخلاف دائر کی گئی، فیصل صدیقی نے وضاحت کی کہ نظرثانی درخواست میں جسٹس جمال مندوخیل کے فیصلے پر انحصار کیا گیا ہے، اور انہوں نے کہا کہ میں اپنی سات گزارشات عدالت کے سامنے رکھوں گا۔
وکیل نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے نظرثانی درخواست میں جسٹس مندوخیل کے فیصلے پر انحصار کیا گیا،ن لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جمعیت علما اسلام نے درخواستیں دائر کیں، درخواستوں میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دی جائیں۔ان جماعتوں نے کہا یہ مخصوص نشستیں ہمیں دی جائیں، ان جماعتوں کو متناسب نمائندگی سے نشستیں مل چکی تھیں، مخصوص نشستوں سے متعلق قومی اور صوبائی اسمبلی کی 78 نشستوں پر تنازع ہے،وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جس روز انتخابی نشان الاٹ ہونے تھے اسی دن انٹرا پارٹی انتخابات کا فیصلہ دیاگیا، اسی روز پی ٹی آئی نے ایک نشان پر الیکشن لڑنے کیلئے نظریاتی کے ٹکٹس جمع کرائے، کچھ دیر بعد پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین نے میڈیا پر آکر ٹکٹس سے انکار کردیا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو نشان دینے سے انکار کردیا۔
جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین اپنی جماعت اور نشان سے الیکشن کیوں نہیں لڑے؟ وکیل نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے مرکزی کیس میں جواب دیا تھا اب مجھے یاد نہیں۔
جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے کہا تھا کہ مجھے الگ الگ نشان دئیے جارہے تھے، اس موقع پر جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ آپ جس سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے اس پر کہتے ہیں بعد میں دوں گا۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہاکہ جب میں دلائل مکمل کرلوں گا بہت سے جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی، حقائق کو اس تنازع کی وجہ بنے وہ میں نے بیان کردئیے۔
ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا
عدالت نے کہا کہ فیصلے میں آدھے جیتے ہوئے امیدواروں کو کسی سیاسی جماعت میں جانے کا کہاگیا، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کیا بہتر نہ ہوتا کہ تمام امیدواروں کو یہ حق دیا جاتا؟
جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ آپ سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں، پی ٹی آئی کی نمائندگی کیسے کرسکتے ہیں؟ آپ نے تحریک انصاف کی نمائندگی کیلئے اجازت لی ہے۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کیس کے حقائق کی وجہ سے مجھے اس اجازت کی ضرورت نہیں،الیکشن کمیشن نے بچی ہوئی مخصوص نشستیں دوبارہ انہی جماعتوں کو دینے کا فیصلہ کیا، کمیشن کے ایک رکن نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا، ایک رکن نے کہا تھا آئینی ترمیم تک یہ نشستیں خالی رکھی جائیں۔
بعد ازاں سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظر ثانی درخواستوں کی سماعت 29 مئی تک ملتوی کردی گئی۔
