چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ہم قانون اور کاغذوں پر چلتے ہیں، سچ کیا ہے یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے ،ایک کاغذ ایک پارٹی کے لیے فائدہ اور ایک کے خلاف ہوتا ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور دیگر 16 ججز سمیت جسٹس قاضی فائز کی اہلیہ اور دیگر اہلخانہ شریک تھے۔
فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس منصورعلی شاہ ، جسٹس منیب اختر ،جسٹس اطہر من اللہ ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس ملک شہزاد نے شرکت نہیں کی۔
بس ایک دن کیلئے مجھے برداشت کرلیں، جنگلات کے تحفظ سے متعلق کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس
فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے ایک دفعہ کال آئی کہ چیف جسٹس بلا رہے ہیں، مجھے لگا چیف جسٹس نے ڈانٹنے کے لیے بلایا ہے کیونکہ میں انگریزی اخبار میں لکھ رہا تھا مگر انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی جج نہیں، آپ چیف جسٹس بنیں۔
جسٹس قاضی کا کہنا تھا کہ کبھی کازلسٹ بنانے میں دخل نہیں کیا، ہو سکتا ہے ، بے پناہ فیصلے غلط کیے ہوں، انصاف دینا ہمارا فرض ہے، میری آزادی میں کچھ گھنٹے رہ گئے ہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس سے ملاقات ، جسٹس منصور کے چیمبر بھی آمد
نئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے غصے کے وقت صرف آپ کی اللّٰہ ہی مدد کر سکتا ہے، میں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے غصے کا کئی بار سامنا کیا اور تجربہ اچھا نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز کو بہترین انسان پایا، وہ اچھا وقت گزار کر جا رہے ہیں، ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان کی کمی محسوس کریں گے، انہیں الوداع کہنے میں بہت مختلف احساسات ہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ مسکرا کر بات کریں گے تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے شائستہ جواب سے آپ مانوس ہو جائیں گے، اگر آپ انہیں تنگ کریں گے تو غصے میں ان کی برابری نہیں کرسکیں گے۔
