پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد راولپنڈی میں میٹرو بس سروس بند، موبائل فون سروس معطل ہے۔
اسلام آباد کے 24 مقامات پر کنٹینرز لگا کر راستے بند کئے گئے ہیں، انتظامیہ کے مطابق جڑواں شہروں میں چلنی والی میٹرو بس سروس آج مکمل طور پر بند رہے گی۔
راولپنڈی صدر اسٹیشن تا پاک سیکرٹریٹ تک میٹرو بس سروس بند رہے، جڑواں شہروں کی ضلعی انتظامیہ کی ہدایت پر میٹروبس سروس مکمل بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ راستوں کی بندش کی وجہ سے شہریوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی مظاہرین کو روکنے کے لئے مکمل تیاری کر رکھی ہے، سکیورٹی کو حتمی شکل دے کر ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔
پولیس کی پوری تیاری ہے ،اسلام آباد میں کوئی آیا تو پھر شکوہ نہ کرے ، محسن نقوی
تحریک انصاف کے آج ہونے والے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر راولپنڈی پولیس نے سیکورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے، اس مقصد کے لئے امن و امان یقینی بنانے کے لئے 4 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار فرائض انجام دیں گے۔
سی پی او سید خالد ہمدانی کے مطابق شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں اور اہم شاہراہوں پر پولیس تعینات رہے گی، امن و امان میں خلل ڈالنے والوں سے نمٹنے کے لئے خصوصی تربیت یافتہ دستے تعینات کئے گئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے پیش نظر ملک بھر سے اسلام آباد اور راولپنڈی جانیوالے راستے بند کر دیئے گئے۔ اڈیالہ جیل جانے والا روڈ بھی کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا ہے جبکہ جیل کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کی تمام اہم شاہراہیں کنٹینرز لگا کر سیل کردی گئیں، جڑواں شہروں میں زمینی رابطہ بھی ختم ہو گیا، فیض آباد پر کنٹینرز کی ڈبل لیئر جبکہ زیرو پوائنٹ پر 20 فٹ اونچی کنٹینرز وال کھڑی کر دی گئی ہے۔
ملک کے چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
لاہور سمیت پنجاب بھر سے اسلام آباد، راولپنڈی کو ملانے والی تمام سڑکیں رکاوٹیں لگا کر بند کر دی گئی ہیں، لاہور میں موٹروے، رنگ روڈ، بابوصابو انٹرچینج، شاہدرہ سے پنڈی جانے والی سڑکوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پی ٹی آئی کے قافلے کنٹینرز ہٹا کر ڈی چوک کی جانب بڑھنا شروع ہوگئے جبکہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر کارکنوں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے۔ چھچھ کے مقام پر بند موٹر وے پر پڑے کنٹینرز کرینوں کے ذریعے ہٹا دیے گئے ہیں۔ ڈی چوک پر بھی کئی خواتین و مرد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
