امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو دو دن بعد کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں بھی دھرنے شروع ہو جائیں گے۔
لیاقت باغ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مطالبات منظوری تک دھرنا ختم نہیں ہو گا ، ڈی چوک مارچ بھی کر سکتے ہیں۔
جماعت اسلامی کا دھرنا چوتھے روز میں داخل ، حکومت سے آج پھر مذاکرات ہونگے
انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک ہی خاندان کی حکومت ہے اور یہ رکاوٹیں ڈال کر اپنے لئے حالات خراب کر رہے ہیں، لاہور میں بھی دھرنا شروع ہو چکا ہے۔
حافظ نعیم نے مزید کہا کہ آئی پی پیز سے معاہدے غیر قانونی ہیں، قوم کے سامنے لائے جائیں ، ہمیں کپیسٹی چارجز کسی طور قابل قبول نہیں ، بلوں میں ٹیکسوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ بجلی کی قیمت کا تعین بجلی کی لاگت کے مطابق کیا جائے۔
جماعت اسلامی دھرنا، حکومتی درخواست مسترد، مذاکرات کی پیشکش قبول
انہوں نے کہا کہ حکومت کو مراعات ختم کرنا پڑیں گی ، حکومت بتائے کہ واپڈا کے افسران و دیگر محکموں کے افسران کو بجلی مفت کیوں ملتی ہے، پیٹرول بھی افسران کو مفت دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ ، ججوں سمیت سب کو صرف 1300 سی سی گاڑیاں دی جائیں، جب تک حکمرانوں کی عیاشیاں ختم نہیں ہوں گی عوام پر بوجھ پڑتا رہے گا۔
آئی پی پیز ملکی معیشت کیلئے ناسور، دھرنا جاری رہے گا، لیاقت بلوچ
انہوں نے کہا کہ پاکستان تصادم کا راستہ برداشت نہیں کر سکتا، جب رکاوٹیں کھڑی کریں گے تو وہ توڑی بھی جائیں گی، پھر ہم سے شکایات نہ کریں۔ کارکنان سے کہتا ہوں الجھنے کے بجائے فوکس حکومتی اقدامات پر رکھیں کیونہ بعض لوگ پارٹیوں میں اختلافات ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، سب سیاسی پارٹیاں اس دھرنے میں شریک ہوں۔
