چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں تنگ آ چکے ہیں ۔ یہ آئین کی بالادستی کا کہتے ہیں مگر بات اسٹیبلشمنٹ سے کرنی ہے، انہیں پتہ ہے کس کے پاؤں پکڑنے ہیں اس لیے سیاستدانوں سے بات نہیں کررہے۔نو مئی نہ صرف حکومت بلکہ فوجی قیادت کیخلاف ناکام بغاوت تھی، آصف زرداری نے ذاتی مفاد کی نہیں ڈائیلاگ کی بات کی۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نےقومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صدرمملکت آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں ایک ساتھ چلنے کی بات کی ہے ،انہوں نے مفاد کی اور عوامی مسائل کوحل کرنے کا کہا ہے۔
190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت منظور
انہوں نے کہا کہ آج ایوانوں میں آکر اپوزیشن اراکین اپنی ذمہ داری بھول گئے ہیں،انہیں بجٹ معاملے پرکردار ادا کرنا چاہیے، انہوں نے رونادھونا لگایا ہوا ہے، آپ لوگ تنخواہیں لے رہے ہیں تو رونا دھونا چھوڑیں ملک کی بہتری میں اپنا کردارادا کریں اور عوامی مسائل پر بات کریں۔
احتجاج سب کا حق ہے،اپوزیشن جمہوری انداز میں بے شک احتجاج کرے لیکن حکومت کیساتھ بیٹھ کر بجٹ کےمعاملے پر مشاورت کرے۔ گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نےخطاب تو کیا لیکن انہوں نے اپنی پوری تقریر میں کہیں بھی عوامی ایشوز پر بات نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے اسپتالوں میں دوسرے صوبوں سے لوگ آ کر علاج کرواتے ہیں، ہم نے مفت علاج کا مثالی کام کیا ہے، صدر زرداری نے باقی صوبوں کو بھی معیاری کام کرنے کا کہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت گندم اسکینڈل میں ملوث افرادکے خلاف ایکشن لیا جانا چاہیے، وزیراعظم گندم اسکینڈل کے معاملے پر ملوث افرادکوڈھونڈیں، پنجاب حکومت نےابھی تک گندم کی خریداری نہیں کی، حکومت کمیٹی کمیٹی کھیلنا بند کرے،کسانوں کے مسائل پر دھیان دے، ہمارا کسان خوشحال ہو گا تو ملک خوشحال ہو گا۔ کسانوں کا نقصان مہنگائی کی وجہ سے نہیں بنا بلکہ نااہل لوگوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی ہوئی ہے۔
آج حکومت ایکسپورٹ پر پابندی ہٹائے،اس وقت گندم اور کسانوں والے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر ہوناچاہیے، حکومت کسانوں کے ساتھ ظلم نہ کرےبلکہ ان سے گندم خرید کر فلسطین کے عوام کو بھیج دے۔ اگر حکومت معیشت کی ترقی چاہتی ہے تو آج فیصلہ کرنا ہوگا۔
دبئی لیکس، جن پیسوں سے جائیدادیں خریدیں وہ کہاں سے کمایا، شبر زیدی
چیئرمین پیپلزپارٹی نےکہا کہ تحریک انصا ف والے جب بھی حکومت سنبھالتے ہیں تو تحفے دیتے ہیں ۔ 2018 میں انہوں نے پنجاب سنبھالا تو عثمان بزدار کی صورت میں تحفہ دیا،اس دفعہ خیبرپختونخوا میں علی امین جیسا تحفہ دے دیا ہے، خیبرپختونخوا کے عوام کو دیا گیا تحفہ ڈرامے باز ہے۔
یہ لوگ تو 9 مئی جیسے سنگین واقعے کی مذمت کیلئے بھی تیار نہیں ہیں۔ اگر یہ معافی مانگنے کیلیے تیار نہیں ہیں تو ان کا رونا دھونا لگا رہے گا اورانہیں بھگتنا پڑے گا۔9 مئی کواحتجاج نہیں بلکہ بغاوت کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔
