لاہور: بھارت میں قید معمر پاکستانی خاتون نسرین اختر کو رہائی کا پروانہ مل گیا۔
2006 سے بھارت میں بھارت میں قید نسرین اختر کوواہگہ بارڈر کے ذریعے کل وطن واپس بھیجا جائے گا۔
واہگہ بارڈر تک انہیں چھوڑنے کے لیے پاکستان ہائی کمیشن نیو دہلی کا ایک نمائندہ بھی ساتھ آئے گا۔ 65 سالہ نسرین اختر معدے کے السر اور ذیابیطس (شوگر) کی مریضہ ہیں۔
مئی 2018 کے پہلے ہفتے سے وہ امرتسر کے ٹرانزٹ کیمپ میں بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے پاکستان جانے کی اجازت ملنے کی منتظر تھیں۔
نسرین اختر کو 2006 میں جعلی کرنسی اورمنشیات کے مقدمے میں گیارہ سال دس ماہ کی سزا ہوئی تھی۔ ان پر دو لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔
پاکستان کی معمر خاتون نے اپنی سزا نو نومبر 2016 کومکمل کرلی تھی اور اس کے بعد سے وہ اجازت نامہ ملنے کی منتظر تھیں۔
لاہور کی رہائشی نسرین اختر کی والدہ شریفاں بی بی نے 2016 میں حکومت سے اپیل کی تھی کہ ان کی بیٹی کو وطن واپس لانےکے اقدامات کیے جائیں۔
انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی شہرت یافتہ سماجی رہنما انصاربرنی ایڈوکیٹ نے بھی نسرین اختر کی رہائی کی اپیل کی تھی۔
