راولپنڈی: افغان صدراشرف غنی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو فون کرکے ملا فضل اللہ کی ڈرون حملے میں ہلاکت سے آگاہ کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان صدر نے آرمی چیف کو افغان صوبے کنڑ میں ایک ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی اطلاع دی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملا فضل اللہ 2009 سے افغانستان میں چھپا ہوا تھا، اس کی ہلاکت ایک مثبت پیش رفت ہے اور آرمی پبلک اسکول میں قتل عام کا شکار ہونے والوں سمیت ان بے شمار پاکستانی خاندانوں کے لیے ایک ریلیف ہے جو ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ باہمی تعاون اور رابطے کے ذریعے ہی دہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
امریکی فوج اور افغان وزارت دفاع کی جانب سے یہ خبر جاری کی گئی تھی کہ ملا فضل اللہ کو 13 اور 14 جون کی درمیانی شب ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے، اس حملے میں ملا فضل اللہ کے چار ساتھی اور ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر بھی مارے گئے۔
