ملتان: سانحہ نیلم میں جاں بحق ہونے والی طالبہ آمنہ کوثر کو آہوں اورسسکیوں میں سپرد خاک کر دیا گیا، آمنہ کی نماز جنازہ میں اس کے عزیز و اقارب، ساتھی طالب علموں اورعام لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
آمنہ کوثرمیڈیکل کے فورتھ ایئر کی طالبہ تھی اور اپنے ساتھی طالب علموں کے ہمراہ کالج ٹرپ پر وادی نیلم گئی تھی، 13 مئی کو کالج کے طلبا دریائے نیلم کے ایک معاون نالے جاگراں کے معلق پل پر کھڑے تصاویر لینے میں مصروف تھے کہ رسیوں اور لکڑی کا بوسیدہ پل وزن زیادہ ہونے کے باعث اچانک ٹوٹ گیا جس سے چالیس سے زائد طلبا نالے کے طوفانی دھارے میں بہہ گئے تھے۔
حادثے کا شکار ہونے والے زیادہ تر طلبا کا تعلق فیصل آباد سے تھا، حادثے کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا جس میں پاک فوج کے جوانوں نے بھی حصہ لیا، نالے میں گرنے والے طلبا میں سے 16 کو زندہ بچا لیا گیا تھا جبکہ سات کی لاشیں ملی تھیں۔
حادثے کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا تھا اور 14 مئی کو ہر سال منائے جانے والے وادی نیلم کے تہوار یوم نیلم کی تقریبات بھی منسوخ کردی گئی تھیں۔
آمنہ کوثر کی لاش 25 روز بعد نالے سے نکالے جانے کے بعد ورثا کے حوالے کی گئی تھی، ورثا نے بتایا کہ میت 25 روز بعد ملی ہے اگر انتظامات اچھے ہوتے تو ایسا حادثہ پیش ہی نہ آتا۔
