نیویارک: سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ کی اسرائیل کے حق میں پیش کی گئی قرارداد کو ممبران نے مسترد کر دیا۔ امریکہ کے علاوہ کسی رکن ملک نے قرارداد کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔
معاملے کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی سفیر نے کہا کہ امریکی قرارداد اسرائیل فلسطین تنازع میں غیرمتوازی اور جانبدار ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں دوسری قرارداد کویت کی جانب سے پیش کی گئی جس میں فلسطینیوں کے تحفظ کی بات کی گئی تھی۔ چین، فرانس اور روس نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا لیکن امریکہ نے قرارداد کو ویٹو کردیا۔
قرارداد کے مسترد ہونے پر کویت نے جنرل اسمبلی جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ ماضی میں بھی کئی بار اسرائیلی تشدد اور جارحیت کے خلاف سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قراردادوں کو ویٹو کرتا رہا ہے۔
قبل ازیں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نیکی ہیلی نے کویت کو خبردار کیا تھا کہ اگر فلسطینیوں کے تحفظ کی قرارداد پیش کی گئی تو اسے ویٹو کردیا جائے گا۔ امیرکی نمائندہ نے کویت کی قرارداد کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا اس سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان جاری امن عمل کو نقصان پہنچے گا۔
امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی نے اقوام عالم سمیت فلسطینیوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ امریکی اقدام سے اسرائیل کےخلاف مظاہروں میں شدت پیدا ہوئی ہے۔
حالیہ مظاہروں کے دوران اسرائیلی قابض افواج اور پولیس کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ و شیلنگ سے خواتین، بچوں، معذور افراد اور صحافیوں و طبی عملے سمیت درجنوں فلسطینی شہید جب کہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔
