کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں انتخابات ایک ماہ موخر کرنے کی قرارداد منظور کر لی گئی، قرارداد صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی جانب سے پیش کی گئی۔
قراردارد میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے متعدد اضلاع میں شدید گرمی کے باعث انتخابی عمل متاثر ہو سکتا ہے اور پولنگ اسٹیشنوں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پولنگ اسٹاف کا بیٹھنا محال ہو گا اس لئے الیکشن 25 جولائی کے بجائے اگست کے آخری ہفتے میں کرائے جائیں۔
قرارداد منظورہونے پراپوزیشن نے احتجاج اور واک آؤٹ کیا۔ بلوچستان اسمبلی کااجلاس 31 مئی تک ملتوی کر دیا گیا۔
رکن اسمبلی زمرک اچکزئی نے کہا کہ نئی حلقہ بندیوں سے متعلق تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کیے جانے چاہیں اور جب تک یہ تحفظات دور نہیں کیے جاتے اس وقت تک انتخابات ملتوی ہونے چاہییں۔
وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ حلقہ بندیوں کی مکمل نشاندہی تک انتخابات نہیں ہونے چاہیں، بلوچستان میں پشتون، بلوچ ، سندھی اور پنجابی سب مل کر رہتے ہیں، اگر پشتونوں کو نیا صوبہ چاہیے تو قرارداد لے کر آ جائیں، ہم حمایت کریں گےِ۔
اپوزیشن نے انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق قرارداد کی شدید مذمت کی، اپوزیشن رکن نصراللہ زیرے نے کہا کہ یہ قرارداد جمہوریت اور آئین کے منافی ہے، آج پھرغیرجمہوری قوتیں انتخابات روکنے کی کوششیں کر رہی ہیں، 70 کی دہائی میں صوبے میں ووٹ نام کی کوئی چیزموجود نہیں تھی، ون مین ون ووٹ کی بدولت آج یہ لوگ ایوان میں بیٹھے ہیں۔
رکن اسمبلی یاسمین لہڑی نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سرفراز بگٹی کی جانب سے الیکشن ملتوی کرنے کا جواز کمزور ہے، پہلے سے ہی یہ باتیں کی جا رہی تھیں کہ عام انتخابات ملتوی کرنے میں بلوچستان اسمبلی اہم کردارادا کرے گی، ایسے الزامات اپنے سر کبھی نہیں لیں گے۔
اپوزیشن لیڈر رحیم زیارت وال نے اس موقع پر کہا کہ اس طرح کی قرارداد کے ذریعے جمہوریت کا بستر ہمیشہ کے لیے لپیٹا جا رہا ہے، اس قرارداد کو ندامت کے ساتھ واپس لیا جائے، اگر پورا ملک انتخابات ملتوی کرنے کا کہے تو ہم بھی تیار ہو جائیں گے۔
سرفراز بگٹی نے ان اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ قرارداد لانا میرا حق ہے، یہ جمہوریت کے خلاف نہیں، اس سے قبل بھی سینیٹ الیکشن سبوتاژ ہونے کی باتیں کی گئیں اور ہم پر پیسے لینے کے الزامات لگائے گئے، ہمیں بتایا جائے کہ حاصل بزنجو کیسے سینٹر منتخب ہوئے جبکہ جب وہ سینیٹر بنے تو نیشنل پارٹی کا ایک رکن بھی اسمبلی میں نہیں تھا۔
