جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئیں، پاکستانی وزیرخارجہ بلاول بھٹونے ان کا استقبال کیا، جرمن وزیرخارجہ نے دفترخارجہ کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا جرمنی کی وزیرخارجہ کے ہمراہ وزارت خارجہ میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ جرمنی کی وزیر خارجہ کو پاکستان کے پہلے دورے پر خوش آمدید کہتے ہیں، جرمنی پاکستان کا بڑا شراکت دار ہے، گزشتہ سال پاکستان نے جرمنی کے ساتھ 2.5 بلین ڈالر کی تجارت کی، جرمنی پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کرنے والا ساتواں ملک ہے۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ افغان عالمی برادری کے انسانی حقوق، خواتین کے ساتھ حقوق پر عالمی برادری کے جذبات کا احترام کریں گے، ضروری ہے کہ دنیا افغان عوام پر توجہ دے، ہم نے افغانستان سے 24 ممالک کے 90 ہزار افراد کے انخلاء میں مدد دی، یوکرین کے مسئلہ پر بھی تبادلہ کیا گیا، پاکستان کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت ، سرحدوں، انسانی حقوق کے احترام اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا ہے ، تنازع کے آغاز سے ہی ہم روس، یوکرین اور دیگر ممالک کی قیادتوں سے رابطہ میں ہیں، پاکستان سمجھتا ہے کہ مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے، بھارت میں تازہ واقعہ میں بی جے پی کے دو حکام کی جانب سے حضور پاک کی زات پر توہین آمیز کلمات کہے گئے، م کشمیری عوام کی جدوجہد، اور انسانی حقوق کی حمایتکرتے ہیں۔
مقبوضہ کشمیرپر بات کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ دنیا بھی بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، پاکستان مقبوضہ کشمیر کا پرامن اور یواین قراردادوں کے مطابق حل چاہتا ہے۔
جرمن وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان مہاجرین کو پناہ دیکر پاکستان نے بڑے دل کا مظاہرہ کیا، جرمنی پاکستان کے ساتھ تمام معاملات میں تعاون کے فروغ کا خواہا ں ہے، طالبان حکمران سے امید ہےخواتین کو تعلیم اور دیگر امور میں آگے لائیں گے، طالبان حکومت میں خواتین کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے، جرمنی افغان خواتین کی ہر شعبے میں معاونت کا سلسلہ جاری رکھے گا، افغانستان کے معاملات پر پاکستان سے رابطے میں رہتے ہیں، روس کی جانب سے یوکرین میں حملوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔
دو روزہ دورے کے دوران بیئربوک وزیر اعظم شہباز شریف کے علاوہ سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ دیگر حکومتی نمائندوں سے بھی بات چیت کریں گی۔
