اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ انہیں آمر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنے اور تمام تر کوششوں کے باوجود اس سے پیچھے نہ ہٹنے کی سزا دی جا رہی ہے۔
بدھ کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف مقدمات بنانے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے اعمال کیا ہیں، عدالت میں دیا گیا بیان سب کو سنانا چاہتا ہوں۔
ماضی کا ذکر کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ آمر پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کو اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنایا تھا۔ 2013 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ماہرین قانون سے مقدمہ کے لئے مشورہ کیا تو مجھے کہا گیا کہ بھاری پتھر نہ اٹھایا جائے لیکن اپنے ارادے پر قائم رہا۔
انہوں نے کہا کہ اسی عرصے میں آصف زرداری ایک اہم قومی و سیاسی رہنما کے ساتھ میرے پاس آئے اور کہا کہ پرویز مشرف دور کے اقدامات کی توثیق کی جائے لیکن میں نے انکار کر دیا اور انہیں کہا کہ مصلحتوں سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے۔
پرویز مشرف کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت حاضری کے لئے اپنے محل سے نکلنے کے بعد راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچے اور خاصا عرصہ وہاں بیٹھے رہے، لیکن کوئی قانون انہیں نا تو جیل بھیج سکا نا انصاف کے کٹہرے میں لا سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کی پاداش میں انہیں مختلف طرح کے دباؤ کا شکار کیا گیا، ایسے کسی اقدام کو نہیں مانا تو 2014 میں دھرنوں کے ذریعے مجھے دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی۔ اس موقع پر بھی وہیں قوتیں پس پردہ تھیں جو پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ سے باز رکھنے کے پیچھے تھیں۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان سے بنی گالہ میں ملے، ملاقات کے دوران انہوں نے دھاندلی پر کوئی بات نہیں کی لیکن کچھ ہی عرصہ میں لندن میں طاہرالقادری اور عمران خان کی ملاقات ہوئی، پھر دھرنا شروع کیا گیا اور مجھ سے استعفی کا مطالبہ شروع کر دیا گیا۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ اب سب جانتے ہیں کہ عمران خان اور طاہرالقادری کے دھرنے کے پس پردہ کون تھا؟ کس کی ایماء پر چار ماہ تک استعفی کا مطالبہ کیا جاتا رہا؟ عمران خان نے خود بتایا کہ ایمپائر کی انگلی جلد اٹھنے والی ہے۔ اس سارے معاملے کا اہم مقصد یہ تھا کہ مجھے مشرف کے خلاف کارروائی سے روک دیا جائے۔
دھرنے کے دوران پاکستان ٹیلی ویژن سمیت دیگر اہم عمارتوں پر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی چڑھائی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سوچا سمجھا حملہ تھا، منصوبہ سازوں کو توقع تھی کہ وہ مجھے جھکا لیں گے، اعصاب جواب دے جائیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہو سکا تو اہم عمارتوں پر حملہ کر دیا گیا۔
نواز شریف کے مطابق انہی دنوں ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کا بیان مجھ تک پہنچایا گیا کہ میں مستعفی ہو جاؤں اور اگر یہ ممکن نہیں تو طویل رخصت پر چلا جاؤں۔ مجھے اس معاملے پر دکھ ہوا کہ عوام کی رائے سے منتخب وزیراعظم کو اس کے ماتحت ادارے کا ملازم رخصتی کا پیغام بھجوا رہا ہے۔ یہ مطالبہ اس تاثر کی بنیاد پر تھا کہ نواز شریف کو راستے سے ہٹالیا گیا تو مشرف کے خلاف مقدمہ لپیٹنا مشکل نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود میں اس لئے ثابت قدم رہا کہ آمریتوں نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ دو یا تین لوگ مارشل لاء کا فیصلہ کرتے ہیں، حکومتوں کا فائدہ بھی مٹھی بھر لوگ اٹھاتے ہیں لیکن پوری فوج کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے، ملک کے دفاع کے لئے سینہ سپر رہنے والے سپوت اس کا نشانہ بنتے ہیں۔ بہادر ماؤں کے یہی سپوت ملک کا اثاثہ ہیں جو اقتدار کے بجائے سرحدوں کے دفاع کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔
اپنے دور میں کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کا بجٹ بڑھایا، بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکے کیے جانے کے بعد چند گھنٹوں کی تاخیر کے بغیر اپنی ایٹمی قوت کو ظاہر کیا۔ مجھے یقین تھا کہ ایٹمی دھماکے نہ کیے تو خطے میں عدم تواز پیدا ہو گا، پاکستان سر اٹھا کر کھڑا نہیں رہ سکے گا، طاقت کا توازن بھارت کے حق میں پلٹ جائے گا۔
11 مئی 1998ء کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے ساتھیوں سے مشاورت کے بعد فوری طور پر فوجی سربراہ سمیت دیگر کو احکامات دیے۔ اس مرحلے پر اربوں ڈالر دیے جانے کی پیشکش کی گئی لیکن ملکی سربلندی و افتخار کے مقابل اربوں و کھربوں ڈالرز کو ترجیح نہیں دی۔
ن لیگ کے تاحیات قائد کا کہنا تھا کہ سابق آمر کا محاسبہ کرنا فوج کے وقار کے لیے بھی لازم ہے۔ چند لوگوں کا قدام عوامی اور بین الاقوامی سطح پر فوج پر آنچ لانے کا باعث بنتا ہے۔ انہی وجوہات کی بناء پر مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ ضروری سمجھا تھا۔ میں نے سر جھکا کر نوکری کرنے سے انکار کردیا یہی میرے خلاف جھوٹے مقدمات کا سبب بنا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے خارجہ پالیسی کو قومی مفاد میں ڈھالنے کی کوشش کی، اپنے گھر کو صحیح کرنے کی سعی کی، ان اقدامات کی وجہ سے کچھ قوتوں نے سمجھا کہ میں چند مقامات پر اب بہتر نہیں رہا۔ اس لیے جھے منصب سے ہٹانے، اپنی جماعت کی سربراہی سے ہٹانے اور نااہل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پاناما لیکس میں دنیا بھر کے سینکڑوں لوگوں کے نام تھے لیکن صرف پاکستان میں ایک ایسے شخص کے خلاف کارروائی کی گئی جس کا نام پاناما پیپرز میں تھا ہی نہیں۔ میرا جرم یہ تھا کہ عوام اپنی محبت کی وجہ سے مجھے بار بار منتخب کرتے رہے۔
نواز شریف کی نیوزکانفرنس کے موقع پر ان کی صاحبزادی مریم نواز، سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر طارق فاطمی اور پرویز رشید بھی موجود تھے۔
ن لیگ کے تاحیات قائد کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی انہیں قید و بند کا شکار کیا گیا، اب بھی یہی ہو رہا ہے۔ ماضی میں بھی پانامہ کا کوئی وجود نہیں تھا اب بھی ایسا ہی ہے، میں اس وقت بھی داخلی و خارجہ پالیسیوں کو منتخب ایوان کے ہاتھوں میں دیکھنا چاہتا تھا، آج بھی یہی چاہتا ہوں کہ فیصلہ وہی کریں جنہیں عوام نے فیصلے کا اختیار دیا ہے، مجھے جو بھی نام یا لقب دیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں پاکستان کا بیٹا ہوں اور اسی مٹی کا ایک ایک ذرہ مجھے اپنے جان سے پیارا ہے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں ترقیاتی منصوبوں پر اللہ کے حضور احساس تشکر سے کہنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں جو کام کیے ان کی مثال گزشتہ 65 برسوں میں نہیں ملتی۔ بوری بند لاشوں، بتھوں والے کراچی کو روشنیاں لوٹائیں، بلوچستان کو امن لوٹایا، فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے اصلاحات کیں۔ نوجوانوں کو تعلیم و ملازمتوں کے لئے وظائف و سہولیات دیے۔ سی پیک اور سڑکوں کی صورت انفراسٹرکچر بنایا، دہشتگردی پر ضرب لگانے کے لیے ضرب عضب کا فیصلہ کیا۔ اقوام متحدہ میں کشمیر پر دوٹوک بات کی، افغانستان سے معاملات بہتر بنانے اور عالمی طاقتوں کے خدشات دور کرنے کی کوشش کی۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ اپنی قوم کو وہ پاکستان دیا جو 2013 کے پاکستان سے کہیں بہتر تھا، یہ مبصرین نے دیکھنا ہے کہ 28 جولائی 2017 کے فیصلے نے ملک کو کیا دیا، عوام کو کیا بخشا، معیشت و استحکام پر کیا اثر ڈالا، کئی برس بعد آگے بڑھتا اور ترقی کرتا پاکستان دیکھنے والی عوام کو کتنا متاثر کیا؟
انہوں نے سوال کیا کہ اس فیصلے کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کتنی بہتر ہوئی؟ خود عدلیہ اور پاکستان کے نظام قانون و انصاف کی ساکھ کتنی مجروح کی۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں بلوچستان میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ‘حقیقی جمہوریت’ قائم کی گئی۔ پارلیمان کا فیصلہ بدل کر مجھے پارٹی سربراہی سے محروم کیا گیا، گزشتہ 70 برسوں میں پہلی بار سینیٹ انتخابات کے لئے ہمارے امیدواروں کو پارٹی کے انتخابی نشان سے محروم کیا گیا۔
