چین کے صوبے حینان میں سیلاب اور مٹی کے تودے سے گھر تباہ ہونے کے دوران اپنی بچی کو محفوظ مقام تک پہنچانی والی خاتون کی لاش مل گئی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق نوزائیدہ بچی کو بدھ کے روز 24 گھنٹے سے زیادہ وقت تک ملبے تلے دبے رہنے کے بعد زندہ نکال لیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق شدید بارشوں کے باعث حینان صوبے کے گاؤں وانگزونگڈیان میں لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے تباہ کاریاں ہوئی تھیں۔
اس خطے میں سیلاب کی بڑی وجہ ریکارڈ بارشیں ہیں جن کے باعث 51 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً چار لاکھ کے قریب اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔
چین میں ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے بچی کو بچانے کی ویڈیو وائرل ہو چکی ہے۔ اس بچی کی عمر کم و بیش تین سے چار ماہ بتائی جاتی ہے۔
اخبار سدرن میٹروپولس ڈیلی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خاندان کے فرد ژاؤ نے بتایا کہ ‘میں نے بچی کی آواز سنی اور اسی وقت ریسکیو ٹیم نے موقع پر پہنچ کر بچی کو بچا لیا۔ اسے اس کی ماں نے آخری لمحات میں ایک اونچی جگہ پر پھینک دیا تھا۔‘
بچی کو جب ہسپتال پہنچایا گیا تو معلوم ہوا کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
اس بچی کی ماں کی لاش جمعرات کے روز ملبے تلے سے نکالی گئی۔ ریسکیو ٹیم کے رکن نے بیجنگ یوتھ ڈیلی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ بچی کی ماں کی لاش تک پہنچے تو وہ اپنی جگہ ایسی پوزیشن میں ساکت تھی جیسے کچھ اچھال رہی ہے۔
یینگ نامی ریسکیو ورکر نے رپورٹرز کو بتایا کہ ‘انتہائی اہم لمحات میں اس نے بچی کو اچھال دیا اور یہی وجہ تھی کہ وہ زندہ بچ گئی۔
مقامی اخبارات میں بچی اور اس کی ماں کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں: چین: طوفانی بارش نے تباہی مچا دی، 4 افراد ہلاک
گذشتہ ہفتے سے بارشوں اور سیلاب کے باعث پورے صوبے میں افراتفری کا عالم ہے۔ اہم شہراہیں اب دریاؤں کا منظر پیش کرتی ہیں اور گاڑیاں، ملبہ اور کچھ افراد بھی اس کے تیز بہاؤ کے ساتھ بہتے دکھائی دیے ہیں۔
صوبائی دارالحکومت ژینگژو میں کم از کم 12 افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب سیلاب کا پانی زیرِ زمین موجود سب وے تک پہنچ گیا۔
ژاؤ نے بتایا کہ ریسکیو کا کام اس لیے مشکل تھا کیونکہ یہ ایک دور افتادہ گاؤں ہے اور یہاں تک رسائی کے لیے جس پل کو استعمال کیا جاتا ہے وہ بھی سیلاب کے باعث بہہ چکا ہے۔ اکثر گھر بھی سیلاب اور بارشوں کے باعث بہہ چکے ہیں جس کے بعد اب گاؤں کے افراد کو خطرات لاحق ہیں۔
ژاؤ کا مزید کہنا تھا کہ ‘وانگزونگڈیان میں اب بھی متعدد عمر رسیدہ افراد اور بچے موجود ہیں اور ان میں خود کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت بہت کم ہے۔’
ریسکیو ٹیمیں جمعے کے روز بھی اس خطے میں موجود افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں جہاں نو کروڑ سے زیادہ افراد بستے ہیں۔
