امریکہ کی ریاست سین اینٹونیو سے سے تعلق رکھنے والے 60 سالہ شخص نے ایک کامیاب سرجری کے بعد اپنی بڑھی ہوئی ناک کٹوا لی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسٹیل ورکر راجر کی ناک کے دونوں نتھے پس سے بھرے ہوئے تھے اور اسے سانس لینے میں سخت دشواری کا سامنا تھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ گیارہ سال قبل ان کی ناک پر چھوٹا سا دانا نکلا تھا جو بعد میں بڑھتا ہی چلا گیا۔

راجر نے بتایا کہ چند سال گزرنے کے بعد ان کی ناک چہرے سے نیچے لٹک گئی، اور لوگوں نے ان کی اس حالت کو دیکھ کر مزاق بنانا شروع کر دیا۔
ناخوشگوار رشتے تمباکو نوشی سے زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں، تحقیق
ان کا کہنا تھا کہ میری بڑھی ہوئی ناک پر چھوٹی چھوٹی سراخ بنی ہوئی تھیں جن میں سے پیپ رستی تھی۔ میں اس کے وزن کی وجہ سے سانس بھی نہیں لے سکتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ مسلسل پیپ رسنے کی وجہ سے مکھیاں ہر وقت ان کے اردگرد بھنبھناتی رہتی تھیں اور لوگ مجھ پر ہنستے تھے۔
راجر نے بتایا کہ ایک ریئلٹی ٹی وی شو کے دوران میری ملاقات ڈاکٹر سینڈرا لی سے ہوئی اور وہ میری آخری امید تھیں کیونکہ بیشتر اسپتالوں نے مجھے جواب دے دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر لی نے ایک خیراتی ادارے کی توسط سے میرا مفت علاج کرنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر لی نے راجر کی حالت سے متعلق بتایا کہ جب میں نے پہلی مرتبہ اس کی ناک کی حالت دیکھی تو حیران رہ گئی۔ راجر کو رائنوفیما کی بیماری لاحق تھی۔
انہوں نے کہا کہ راجر کی سرجری کرنے کا فیصلہ کافی مشکل تھا کیونکہ اس سے بڑے پیمانے پر ان کا خون ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق کامیاب سرجری کے بعد کے راجر نے کہا کہ ان کی زندگی بدل گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے بعد اسے ٹھیک ہونے میں کافی وقت لگا لیکن اب میری ناک بہت اچھی لگ رہی ہے۔
