وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ افغانستان میں اس وقت طالبان کا اثر رسوخ ہے، وہ حکومت کا حصہ بننے کے موڈ میں نہیں۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مفادات افغانستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، پاکستان کو افغان عمل سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔
اس سے قبل ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان مسئلے کا حل بزور طاقت ممکن نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی سینئر قیادت سے رابطہ کر رہے ہیں۔ افغان وزیر خارجہ کو بھی پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے افغانستان میں خانہ جنگی ہو اور بدامنی امنی پھیلے۔افغان مسئلے کے حل کے لیے خطے کے دیگر ممالک سے بھی مشاورت کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان مسئلے پر امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ مفید بات چیت ہوئی ہے۔افغانستان کے ساتھ تین نشستیں ہو چکی ہیں، پاکستان کا رول ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔
افغانستان کے 85 فیصد علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، طالبان کا دعویٰ
شاہ محمود نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پر ڈی جی فیض اور آرمی چیف نے پارلیمینٹرینز کو بریفنگ دی، ہماری کوشش ہے کہ طالبان کی سینئر لیڈر شپ سے رابطہ کیا جائے۔ افغانستان کی منتخب حکومت کے نمائندگان سے بھی رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے وزیرخارجہ کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے ان کا منتظر ہوں۔ کوشش ہے کہ افغانستان کی تمام قوتوں کو یکجا کریں۔
