تفتان: ایران سے ساڑھے تین ہزار پاکستانیوں کی واپسی کے بعد ایک بار پھر امیگریشن بند کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق کورونا وائرس کے باعث ایران میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کا سلسلہ چھ تک جاری رہا۔ گزشتہ پانچ روز کے دوران ساڑھے تین ہزار پاکستانی تفتان بارڈر کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئے جبکہ چھٹے روز 387 پاکستان وطن واپس پہنچے جن میں 311 زائرین تھے۔
گزشتہ پانچ روز کے دوران تفتان بارڈر کے ذریعے واپس آنے والے پاکستانیوں میں 2 ہزار 531 پاکستانی شامل تھے۔
پاک ایران بارڈر پر آج 11 ویں روز بھی پاک ایران ٹرانزٹ گیٹ بند رہا جبکہ راہداری گیٹ سے 5 مقامی افراد کی ایران سے واپسی ہوئی۔
واضح رہے کہ ایران میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور اب تک 92 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ڈھائی ہزار سے زائد افراد میں مہلک وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے 3 ہزار 287 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں چین کی تین ہزار 13 شامل ہیں۔ دنیا بھر میں 95 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جن میں 53 ہزار سے زائد افراد صحت یاب ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں کورونا وائرس: سعودی شہریوں کو بھی عمرے کی ادائیگی سے روک دیا گیا
آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹینا جارجیوا نے کہا ہے کہ ایمرجنسی فنڈ سے غریب ممالک کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے انتہائی کم سود پر قرض دیا جائے گا۔
کرسٹینا جارجیوا نے کہا ہے کہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، آئی ایم ایف کے ایک تہائی رکن ممالک وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس کے لیے عالمی سطح کے اقدامات کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں کورونا وائرس: ہلاکتوں کی تعداد 3000 سے تجاوز کرگئی
گزشتہ روز معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا تھا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز چھپانے کا تاثر درست نہیں ہے۔
معاون خصوصی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران افواہوں کو سو فیصد غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ پانچوں مریض تیزی سے صحت یاب ہورہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ نزلہ زکام کو کورونا وائرس نہ سمجھا جائے، پاکستان میں داخل ہونے کیلئے ہیلتھ ڈکلیریشن فارم لازمی قرار دے دیا گیا۔
