پہلے پاکستانی انجینئرزکونوکریاں دیں، پاکستان نے عالمی کمپنیوں کےلیے کاروبار کو مقامی ہنرمندوں کو نوکریاں دینے سے مشروط کردیاہے۔ ۔وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ یہ پابندی پاکستان کی جاب مارکیٹ کے مفاد میں ہے۔
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے پاکستان میں کام کرنے والی بین الاقوامی کمپنیوں کومقامی انجینئرز اور تکنیکی ورکرز کو نوکریاں دینا ہونگی،ماہرین کی عدم دستیابی کی صورت میں انہیں غیر ملکی انجینئرز اورتکنیکی ورکرز لانے کے لیےانجینئرنگ کونسل سے اجازت لینا ہوگی۔
فواد چودھری نے یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ پیغام میں کہی ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کمپنیوں کوہدایات جاری کیں ہیں کہ جو بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں کاروبارکرناچاہتی ہیں،وہ پاکستانی انجینرز اور تکنیکی ورکرز کو نوکریاں دیں ۔
بین اللقوامی کمپنیاں جو پاکستان میں کاروبارکرناچاہتی ہیں ان کو پاکستانی انجینرز اور تکنیکی ورکرز کو نوکریاں دینا ہوں گی،اگر مخصوص مہارت پاکستان میں دستیاب نہیں اور باہر سے لوگ لانا ضروری ہیں تو انجینرنگ کونسل سے عارضی رجسٹریشن لینی ہو گی یہ پابندی پاکستان کی جاب مارکیٹ کا مفاد ہے
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) May 17, 2019
وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا اگر مخصوص مہارت پاکستان میں دستیاب نہیں ہے اور بیرون ممالک سے ماہر لوگوں کو لانا ضروری ہے تو بین الاقوامی کمپنیوں کو انجینئرنگ کونسل سے عارضی رجسٹریشن لینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندی پاکستان کی جاب مارکیٹ کا مفاد ہے۔
یہ بھی پڑھیے:جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوئے تو ہم پیچھے رہ جائیں گے، فواد چوہدری
