اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) پر ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی مخالفت کر دی۔
ہم نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں کمیٹی نے پی ایس ایل پر ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی مخالفت کر دی ہے۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/125456/” position =”right”]
ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ایس ایل خسارے میں جارہی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ پر ایف بی آر حکام نے واضح کیا کہ اگر ایڈوانس ٹیکس کو ختم نہ کیا گیا تو پاکستان سپر لیگ ختم ہو جائے گی۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/126836/” position =”left”]
ہم نیوز کو ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ دبئی میں میچ کرانے کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اخراجات زیادہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ مجموعی آمدنی میں پی سی بی کا حصہ صرف 20 فیصد ہے باقی 80 فیصد حصہ فرنچائز کا ہے۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/125964/” position =”right”]
ہم نیوز کے مطابق ایف بی اؔر حکام کا سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ کا مؤقف تھا کہ کھیلوں کے فروغ کے لیے آکشن رائٹس پر ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ ٹرن اوور سمیت باقی ٹیکسز برقرار رہیں گے۔
پی سی بی کو ٹی وی رائٹس، گیٹ منی اور اسپانسر شپ سے آمدنی ہوتی ہے۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/124613/” position =”left”]
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے 24 جنوری 2019 کی بجٹ تقریر میں بتایا تھا کہ تجویز ہے کہ حکومت پاکستان کے قائم کردہ کسی بھی ادارے یا اسپورٹس بورڈ کے زیر اہتمام منعقدہ کھیلوں کی کسی عالمی لیگ میں شریک ٹیموں سے فرنچائز رائٹس کی نیلامی کے مواقع پر عائد ایڈوانس ٹیکس ختم کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شق یکم جولائی 2019 سے لاگو ہو گی۔
