اسلام آباد: مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی رہنماؤں نے تحریک انصاف کے دوسری جماعتوں سے اتحاد کو غیرفطری قراردیدیا ہے۔
پروگرام ’نیوزلائن‘ میں میزبان ماریہ ذوالفقار سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رہنما مائزہ حمید نے کہا ہے کہ حکومت نے جس طرح کے اتحاد سے حکومت بنائی ہے، یہ زیادہ نہیں چلتی۔ اتحادیوں کی امیدیں پوری نہیں ہوں گی تو وہ تحفظات کا اظہار کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آمرانہ طریقے سے نظام چلارہی ہے، جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا۔
مائزہ حمید کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے نہ ٹوٹنے پر تحریک انصاف مایوس ہوئی ہے، اب ان کے لیے اپوزیشن کا متحد ہونا خطرہ ہے۔ حکومت نے نئے صوبے کے نام پر ووٹ لیے ہیں اب ہم نے بل پیش کیا ہے اس کی حمایت کرے۔
حکومت غیرفطری اتحاد پرقائم ہے،نازبلوچ
پیپلزپارٹی کی رہنما نازبلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت غیرفطری اتحاد پرقائم ہے، کراچی میں تحریک انصاف کو ایم کیو ایم کیخلاف ووٹ ملا، اتحادیوں کے اندر عدم اعتماد پیدا ہورہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ضرورت سے زیادہ پراعتماد ہے۔ پیپلزپارٹی این آر او نہیں مانگ رہی ہے، حکومت توجہ کارکردگی پر نہیں اپوزیشن پر ہے۔
رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم حکومت کو پوراوقت دینا چاہتے ہیں، بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ حکومت کو پورا وقت دیں گے لیکن مدت پوری کرنے والے ان کے اپنے کام ہی نہیں ہیں۔
ہمیں فخر ہے کہ عوام نے ہمیں منتخب کیا، فردوس عاشق اعوان
تحریک انصاف کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اتحادیوں کے ساتھ حکومت بنانا چیلنج ہوتا ہے، سب سیاسی جماعتیں اپنے اپنے منشور پرالیکشن لڑکرآتی ہیں۔ ماضی کی حکومتوں نے ڈیلیور نہیں کیا تو عوام نے ہمیں موقع دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت امید صرف عمران خان ہیں، وہ ہی ملک کو معاشی اور سفارتی چینلجز سے نکال سکتے ہیں۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ عوام نے ہمیں منتخب کیا، انتخاب کے لیے صرف طریقہ کار پرچی ہے۔
رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ صوبے کی قرارداد ن لیگ کا سیاسی پینترا ہے، ہم نے جنوبی پنجاب سے وزیراعلیٰ کا انتخاب کیا ہے، اپنے وعدے بھی پورے کریں گے۔
وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے کچھ نہیں کیا، سہیل منصور
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سہیل منصور نے کہا کہ چار ماہ گزرنے کے باوجود وفاقی حکومت نے کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا ہے، ہمارا بنیادی مطالبہ یہی تھا لیکن حکومت نے اس پرکوئی کام نہیں کیا ہے۔ اب بھی کراچی کی ترقی کے لیے حکومت سے امید لگائے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا مطالبہ ہے کہ کراچی کو صوبہ بنایا جائے، ملک میں مزید صوبے انتہائی ضروری ہیں۔
رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ یہ ملک جمہوریت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے 20 سال کے لیے قومی حکومت قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
