راولپنڈی: ایل این جی اسیکنڈل میں تحقیقات کے لیے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نیب میں پیش ہوگئے۔ نیب نے پیشی کے بعد 30 سوالات پر مشتمل ایک اور سوالنامہ تھمادیا ہے۔
قومی احتساب بیورو کی جانب سے طلبی پرسابق وزیرخزانہ آج نیب راولپنڈی میں پیش ہوئے اور نیب کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب دیکارڈ کرائے۔
نیب راولپنڈی نے مفتاح اسماعیل سے ڈیڑھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/121686/” position =”left”]
سابق وزیرخزانہ کو نیب نے پیشی کے دوران 30 سوالات پر مشتمل ایک اور سوالنامہ دے دیا ہے جس کا جواب انہیں ایک ہفتے میں دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیب میں پیشی کے بعد مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ نیب کے سامنے پیش ہوا ہوں اور وہاں جو پوچھا گیا ہے اسکا جواب دے دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیب نے میرا بیان بھی ریکارڈ کیا ہے اوردوبارہ طلب نہیں کیا ہے، اگر نیب نے دوبارہ بھی طلب کیا تو وہ ضرور پیش ہوں گے۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/54484/” position =”left”]
نیب ذرائع کا اسی کیس کی تحقیقات کے حوالے سے بتانا تھا کہ ضرورت پڑنے پر مفتاح اسماعیل کو دوبارہ بلایا جائیگا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال جون میں من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دینے کے الزام پر چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے سابق وزرائے اعظم و دیگر کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی تھی۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں سابق وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے قطر کے ساتھ ایل این جی درآمد کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت پاکستان ہر سال قطر سے 3.75 ملین ٹن ایل این جی خریدے گا جو کہ پاکستان کی قومی ضرورت کا کل 20 فیصد ہے۔
