اسلام آباد: ہائی کورٹ نے وزیر اعظم کے مشیر سید ذوالفقار عباس بخاری المعروف زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے کیس میں تفتیشی افسر کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزیر اعظم عمران خان کے مشیر زلفی بخاری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے کیس کی سماعت ہوئی۔
زلفی بخاری کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) میں جاری تحقیقات کے باعث زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا۔ اُن پر الزام تھا کہ وہ انکوائری میں پیش نہیں ہو رہے ہیں اور وہ ملک سے فرار ہو جائیں گے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ کو چار بار نوٹس بھیجا گیا لیکن آپ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
زلفی بخاری کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ میرے مؤکل ملک سے باہر تھے اور 29 اگست کو انہوں ںے تفصیلی جواب جمع کرایا تھا۔
نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے کہا کہ پانامہ پیپرز میں ملزم کی بھی وی آئی پی کمپنی سامنے آئی ہے جس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے جب کہ زلفی بخاری نے درخواست میں پاکستانی شہری ہونے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
عمران شفیق کے مطابق زلفی بخاری نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ برطانوی نیشنلٹی ہولڈر ہیں اور اُن کے پاس صرف پاکستان کا شناختی کارڈ ہے جب کہ نیب کو چھ کمپنیوں کا ریکارڈ نہیں دیا گیا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ چیئرمین نیب نے ایک دفعہ بھی باہر جانے کی اجازت کیوں دی ؟ کیا نیب نے کوئی گارنٹی رکھی ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو خود ہی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر عمران شفیق کو منگل کو مکمل ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے۔
