کراچی: چینی قونصلیٹ جنرل نے ایک تقریب کے دوران 23 نومبر کو چینی قونصل خانے میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں شہید پولیس اہلکار کے لواحقین کو چینی حکومت کی جانب سے 30 لاکھ روپے فی کس کا چیک پیش کیا ہے۔
بدھ کے روز تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی قونصلیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ قونصل خانے حملے کے وقت جن لوگوں نے چینی عوام اور حکومت کی خاطر اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ایسے بہادر لوگوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔
اس موقع پر موجود انسپکٹر جنرل(آئی جی) سندھ نے چینی حکومت کے تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے اور تمام شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔
واضح رہے کہ 23 نومبرکو کراچی میں واقع چینی قونصلیٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں دو اہلکار شہید اور جوابی فائرنگ میں تین دہشت گرد مارے گئے تھے۔ واقعہ میں قونصلیٹ میں ویزہ لینے کے لیے آنے والے باپ بیٹا بھی شہید ہو گئے تھے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چینی قونصلیٹ پر حملے کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی تھی جس کے مطابق قونصلیٹ حملے میں ملوث ملزمان کا ہینڈلر اسلم اچھو بھارت میں موجود تھا اور ملزمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا۔ رپورٹ کے مطابق ایک حملہ آور عبدالرازق بلوچستان حکومت کا ملازم نکلا۔
یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کراچی قونصلیٹ پر حملے کے بعد چینی باشندوں کی سیکیورٹی پر نظرثانی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا مقصد مستقبل میں ایسے حملوں کا تدارک کرنا ہے۔
کراچی میں چینی قونصلیٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے پر اسلام آباد میں موجود چینی سفارت خانے نے پاک فوج اور پولیس کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بیان میں کہا تھا کہ ہم برقت ایکشن کو سراہتے ہیں۔
پاکستان اور چین کی جانب سے حملے کو پاک چین تعلقات خراب کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے بیان میں یہ کہا تھا کہ پاک چین دوستی کو سبوتاژ کرنے کی ہر کوشش ناکام ہو گی۔
