کیو: یوکرائن کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے مارشل لاء کے نفاذ کے احکامات پر دستخط کر دیے ہیں جو روس کی جانب سے تین یوکرینی بحری جہازوں پر قبضے کے رد عمل میں آیا ہے۔
مارشل لاء کے بعد یہ تنازع دونوں ممالک کے درمیان بدترین بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
دستخط کیے جانے کا اعلان صدارتی ترجمان نے ایک فیس بک پیغام میں کیا۔ یوکرائن کی پارلیمنٹ پہلے ہی 30 دن کے مارشل لاء کے حق میں ووٹ ڈال چکی ہے۔
اتوار کے روز روسی افواج فائرنگ کرنے کے بعد تین یوکرینی بحری جہازوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ واقعہ کریمیا کے ساحل کے قریب پیش آیا۔

صدر پوروشینکو کا کہنا تھا کہ یوکرائن روس کے خلاف جنگ کا خطرہ مول لینے کو تیار ہے اور یوکرینی افواج کو جنگ کے لیے تیار رہنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
مارشل لاء کا نفاز ان علاقوں میں کیا گیا ہے جو یا تو روسی سرحد سے متصل ہیں یا روسی حمیایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے قابو میں ہیں، کئی ساحلی علاقوں میں بھی مارشل لاء نافذ ہوگا۔
یوکرینی حکام نے مارشل لاء کو حفاظتی اقدام قرار دیا ہے۔ صدر پوروشینکو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مارشل لاء کا مقصد روس کو یہ پیغام دینا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
