نارووال: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت سب سے زیادہ شعبہ تعلیم پر خرچ کرے گی، پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی عوام ہے اور تعلیم فراہم کرکے ان کی اہمیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔
سیالکوٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ موجودہ یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کو مضبوط کیا جائے گا۔
اس حوالے سے انہوں نے امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ پہلے سپر پاور نہیں تھا لیکن اس نے دنیا میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ افراد پیدا کرنا شروع کردیے اور 20 سال میں عالمی طاقت بن گیا، تعلیم یافتہ عوام ہی ملکی ترقی کے لیے اہم ہے۔
اس حوالے سے عمران خان نے سنگاپور کی مثال دی۔ ان کے مطابق جس ملک کی 20 لاکھ کی آبادی ہے اس کی برآمدات 330 عرب ڈالر ہیں جبکہ پاکستان کی 21 کروڑ کی آبدی کی برآمدات 24 ارب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اس لیے ممکن ہوا کیوں کہ ان ممالک میں تعلم کے فروغ کے لیے کام کیا گیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ قومیں آگے بڑھتی ہیں جو تعلیم کے ذریعے انسانوں پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ اب تعلیم میں جدت کے ساتھ دنیا بدلتی جارہی ہے، اسی لیے پاکستان بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کام کرے گا بالخصوص مصنوعی ذہانت پر۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی آبادی کی وجہ سے وسائل کم ہو رہے ہیں پر اسی آبادی کو صلاحیت دے کر ویلیو بڑھائی جائے تو معیشت آگے بڑھے گی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ بجائے سڑکوں کے ربن کاٹے جائیں موجودہ حکومت یونیورسٹیوں کے ربن کاٹنے کی روایت رکھے گی۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا حل ممکن ہے اور وہ اس کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری آنے سے اس مسئلے کو بھی آگے بڑھایا جائے گا۔
غربت کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا چین نے غربت کے خاتمے کے حوالے سے ریکارڈ قائم کیے، یہ بہترین قیادت کے تحت کیا گیا اور پاکستان بھی اسی طریقہ کار کے تحت ملک میں غربت کا خاتمہ کر سکتا ہے۔
