ملک میں بجلی صارفین کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آگئی ہے، فروری کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں ایک روپے 60 پیسے فی یونٹ تک اضافے کا امکان ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے اس حوالے سے درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں دائر کر دی ہے۔
درخواست کے مطابق فیول کی قیمتوں میں رد و بدل کے باعث صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سی پی پی اے کی جانب سے درخواست میں کہا گیا ہے کہ فروری کے مہینے میں مجموعی طور پر 7 ارب 69 کروڑ 60 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو 7 ارب 42 کروڑ 70 لاکھ یونٹس فراہم کیے گئے۔
فروری کیلئے بجلی کی ریفرنس لاگت 6 روپے 73 پیسے فی یونٹ مقرر تھی جبکہ اصل پیداواری لاگت 8 روپے 15 پیسے رہی جبکہ ڈسکوز کو فراہم کی جانے والی بجلی کی حتمی لاگت 8 روپے 37 پیسے فی یونٹ تک جا پہنچی ہے۔
میرا گھر میرا آشیانہ اسکیم کے تحت قرض کی حد بڑھا دی گئی
نیپرا حکام کے مطابق اس درخواست پر 31 مارچ کو سماعت کی جائے گی، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا جائے یا نہیں۔
اگر درخواست منظور ہو جاتی ہے تو اس کا براہ راست اثر ملک بھر کے بجلی صارفین پر پڑے گا، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
