ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ ایران نہیں بلکہ امریکا اور اسرائیل کی ہے، یہ جنگ امریکی عوام کی بھی نہیں ان کی حکومت کی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ علی لاریجانی اور دیگر شخصیات کی شہادت سے نظام متاثر نہیں ہو گا، ایران مضبوط سیاسی ڈھانچے کا حامل ملک ہے،جوابی حملے امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر کیے جا رہے ہیں۔
ایران جنگ رکوانے کی کوششیں ، ترکیہ کے وزیر خارجہ کا علاقائی ممالک کے ہنگامی دورے کرنیکا اعلان
انہوں نے کہا کہ امریکی اوراسرائیلی حملوں میں رہائشی عمارتیں ، اسکولز، اسپتال اور بینک متاثر ہوئے، ایران نے پڑوسی ممالک کے شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے، امریکا سے مذاکرات پائیدار امن اور نقصان کے ازالے سے مشروط ہوں گے۔
جنگ میں امریکا کو کتنا نقصان اٹھانا پڑا؟ ایرانی میڈیا نے تفصیلات بتا دیں
انہوں نے کہا کہ ایران کی جوہری پالیسی سے متعلق کسی تبدیلی کا امکان نہیں ، ایران پرامن جوہری توانائی کا حصول جاری رکھے گا، چین اور دیگر ممالک امن کیلئے ثالثی کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
