آبنائے ہرمز کھلوانے کی امریکی صدر ٹرمپ کی اپیل پر فرانس، جاپان اور آسٹریلیا نے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے عالمی مدد کی اپیل پر کئی ممالک نے خاموشی اختیار کر لی جبکہ بعض اہم اتحادیوں نے واضح طور پر انکار کر دیا ہے۔
فرانس نے صدر ٹرمپ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں اپنے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق فرانسیسی بحری بیڑا اس وقت بھی مشرقی بحیرۂ روم میں موجود ہے اور فرانس کی دفاعی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ترجمان نے واضح کیا کہ فرانس آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز نہیں بھیجے گا۔
دوسری جانب جاپان نے بھی اس معاملے میں امریکا کا ساتھ دینے سے گریز کیا ہے۔ جاپانی حکمران جماعت کے پالیسی چیف کا کہنا ہے کہ خطے میں انتہائی سنگین صورتحال پیدا ہونے اور ایک بڑی حد عبور ہونے کی صورت میں ہی جاپانی بحری جہاز آبنائے ہرمز بھیجے جا سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز پر کشیدگی، ٹرمپ کی ایران کو مذاکرات کی پیشکش، چین اور نیٹو سے تعاون کا مطالبہ
اسی طرح آسٹریلیا نے بھی آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر کے مطابق آسٹریلیا اس وقت مشرق وسطیٰ کے کسی فوجی مشن میں حصہ نہیں لے رہا۔ دوسری جانب چین بھی اس معاملے پر خاموش ہے۔
سفارتی مبصرین کے مطابق اہم اتحادی ممالک کے انکار کے بعد آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکا کو سفارتی سطح پر مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
