یونیورسٹی آف ڈربی نے پاکستانی اور بنگلہ دیشی طلبا کی نئی بھرتی عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یونیورسٹی کے مطابق یہ فیصلہ برطانیہ کے نئے ویزا قواعد کے بعد کیا گیا ہے، کیونکہ دونوں ممالک سے طلبا کے ویزا مسترد ہونے کی شرح زیادہ ہے۔
برطانیہ کے محکمہ داخلہ نے حال ہی میں امیگریشن نظام میں تبدیلیوں کی تجویز دی تھی جس کے تحت اگر کسی یونیورسٹی کے طلبا کی ویزا مسترد ہونے کی شرح 10 فیصد سے زیادہ ہو تو اس یونیورسٹی کا بین الاقوامی طلبا کو اسپانسر کرنے کا لائسنس بھی واپس لیا جا سکتا ہے۔
یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق جن طلبا کو پہلے ہی داخلے کی تصدیق دی جا چکی ہے وہ اپنی درخواست کا عمل جاری رکھ سکتے ہیں۔ تاہم نئی درخواستیں فی الحال منسوخ کر دی جائیں گی اور اگر کسی طالب علم نے پہلے سے رقم جمع کروائی ہے تو اسے مکمل رقم واپس کر دی جائے گی۔
یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عارضی ہے اور توقع ہے کہ یہ پابندی کم از کم خزاں تک برقرار رہے گی۔
یاد رہے کہ یونیورسٹی آف ڈربی میں دنیا کے 100 سے زائد ممالک سے آنے والے تقریباً 2 ہزار سے زیادہ بین الاقوامی طلبا زیر تعلیم ہیں۔
