سابق امریکی وزیرِ دفاع کے مشیر ڈگلس میک گریگر نے دعویٰ کیا ہے کہ نریندر مودی نے اپنے حالیہ دورۂ اسرائیل کے دوران بنجامن نیتن یاہو کو ایران کے خلاف ممکنہ مدد کی یقین دہانی کرائی۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق میک گریگر کا کہنا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھارتی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہو کر سامان اتار رہے ہیں، اور بھارت کی بندرگاہیں ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران امریکی بحریہ کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مودی نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں پوسٹر بوائے کے طور پر استعمال ہوئے۔ اسرائیلی صحافی ایتائے میک نے دی وائر میں لکھا کہ مودی کا دورہ نیتن یاہو کی انتخابی مہم کے لیے ایک سستا اشتہار ثابت ہوا۔ دی وائر نے مزید کہا کہ مودی کا اصل ہدف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک رسائی اور خوشنودی حاصل کرنا تھا۔
After my Knesset address, PM Netanyahu and I are on the way to an exhibition which showcases strides made in the world of technology.@netanyahu pic.twitter.com/gcbivevcXT
— Narendra Modi (@narendramodi) February 25, 2026
ماہرین کے مطابق مودی نے ٹرمپ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے بدلے نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں ان کی مدد کی، جس سے بھارتی خارجہ پالیسی پر عالمی سطح پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔ مشرقِ وسطیٰ کے میڈیا نے بھی کہا کہ مودی کا دورہ اسرائیل متنازع حکومت کے لیے سیاسی سہارا بن گیا، اور انہیں اسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا گیا ’میڈل‘ محض نمائشی تھا۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت نے اسرائیل کو غزہ میں انسانی بحران کے دوران ہر طرح کی امداد فراہم کی، جبکہ ترک میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایران کے معاملے پر مودی اپنے سیاسی مفاد کے لیے خاموش رہے۔ سیاسی مبصرین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا مودی کا دورہ چاہ بہار بندرگاہ کے تحفظ اور اڈانی گروپ کے اسرائیلی سرمایہ کاری مفادات کے تحفظ کے لیے تھا۔
ماہرین کے مطابق مودی کا ایران پر حملے سے قبل اسرائیل یاترا کا وقت اور مقاصد مشکوک اور سفارتی طور پر خطرناک ثابت ہوئے، جس سے بھارت کی عالمی ساکھ پر سوالات اٹھ گئے۔
