نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو گیا تھا، جوہری مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ 28 فروری کو پاکستان نے اس صورتحال پر پہلا ردعمل دیا، آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر وزیر اعظم شہباز شریف نے تعزیتی بیان جاری کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ جون میں ایران پر حملے کے دوران بھی ہم نے معاملات سلجھانے کی کوشش کی تھی۔ ایران پر حالیہ حملے کے بعد پاکستان نے بیک ڈور میں رہ کر معاملہ سلجھانے کی کوشش کی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال ، وزیراعظم کا پارلیمانی اور اپوزیشن رہنماؤں کو ان کیمرہ بریفنگ دینے کا فیصلہ
اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں میں کئی ممالک سے پاکستان رابطہ کر چکا ہے، پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران پاکستان کا برادر ہمسایہ ملک ہے اور پاکستان اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔ پاکستان نے ایران پر حملوں کی مذمت کی اور انہیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو گیا تھا، جوہری مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا۔
ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے ، خواجہ آصف
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جوہری توانائی کے پرامن استعمال سے متعلق ایران کے حق کی حمایت کی اور یہ مؤقف اپنایا کہ مسئلہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مشرق وسطیٰ اور ایران اسرائیل جنگ پر اِن کیمرہ بریفنگ دی جائے گی۔
