اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کے حالیہ یوٹرن کو ہم ویلکم کرتے ہیں، نہ کل کوئی ا مریکی سازش تھی اور نہ آج ہے۔
راولپنڈی کس روز جانا ہے، اعلان کل کروں گا، عمران خان
وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے پہلے بھی کہا تھا کہ کچھ یوٹرن اچھے ہوتے ہیں، آرمی چیف کی تعیناتی میں وزیرخارجہ کا کوئی کردار نہیں ہے۔
انہوں ںے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ میں مشکل دور سے گزر کر آئے ہیں، خارجہ پالیسی سے متعلق ہمیں چیلنجز کا سامنا تھا، پاکستان دنیا بھر سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے، وزیرخارجہ کا عہدہ سنبھالا تو پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات پر کام کیا، ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، دہشت گردی، معاشی ، سیاسی اور دیگر متعلقہ امور پر چینی قیادت سے بات چیت ہوئی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، امریکہ مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے پاکستان کا دیرینہ شراکت دار ہے، ہماری تمام تر ترجیحات پاکستان کا مفاد ہے، پانچ ماہ سے ہماری خارجہ پالیسی کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں، پاکستان تمام ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر یقین رکھتا ہے، چین نے مشکل مالی حالات میں ہماری مدد کی، سی پیک منصوبے سمیت تمام امور پر مثبت بات ہوئی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ماضی میں ڈو مور، ڈومو ر اور دہشت گردی کا سلسلہ تھا، اب نیا مرحلہ ہے، پاکستان نے امریکہ سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تعاون پر بات کی، پہلے بھی کہا تھا کہ ہم ایڈ نہیں ٹریڈ چاہتے ہیں، اب بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں، فوڈ سیکیورٹی کانفرنس کی سائیڈ لائن پر امریکی وفد سے ملاقات ہوئی، امریکہ اور پاکستان کے درمیا ن تعلقات میں دوری سے مشکلات ہوتے ہیں، امریکہ اور پاکستان کے درمیا ن تعلقات تاریخی ہیں۔
آرمی چیف کی تعیناتی کو سیاسی بنانا ادارے کو نقصان پہنچائے گا، آصف زرداری
انہوں ںے کہا کہ میری امریکی سیکریٹری خارجہ سے بھی اہم امور پر بات ہوئی، پاکستان اور امریکہ نے مشترکہ کئی اہداف حاصل کیے، جو ممالک پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنا چاہتے تھے انہوں نے نکالنے کا مشورہ دیا، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کا کام جاری رکھنا ہوگا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ہمیں ڈیفالٹ کا سامنا تھا، ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے دن رات محنت کی، جب ہم نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا تو سیلاب آ گیا، سندھ اور بلوچستان کے کچھ اضلاع میں ابھی بھی پانی کھڑا ہے، سیلاب ہمار ی پہلی ترجیح نہ ہونا افسوسنا ک ہے، سیلاب کی وجہ سے زراعت کا شعبہ متاثر ہوا، سیلاب نے ہمارے تعلیمی نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا، جب ہم اپنے ملک کے مسائل کو سیریس نہیں لیں گے تو دنیا بھی نہیں لے گی۔
چیئرمین پی پی نے کہا ہم نے ماضی میں بھی مشکلات کا سامنا کیا لیکن اور مضبوط ہو کر آگے بڑھے، ہم ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا ہمسایہ ملک دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لے گا۔
خیبر پختونخوا میں دہشتگردی میں اضافہ
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ پچھلے پانچ چھ ما ہ کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے ملک کو فائدہ ہوا ہے، متفقہ طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا لائحہ عمل بنایا اور کامیابی حاصل کی۔
