لاہور: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے انتہائی تحمل سے طعنے برداشت کیے اور قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔ توشہ خانہ کیس کے فیصلے پر خوشی نہیں بلکہ یہ لمحہ فکریہ ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گرے لسٹ میں آنے سے کاروباری افراد کو بہت مشکلات درپیش تھیں تاہم اب ملک گرے لسٹ سے پاکستان نکل آیا ہے۔ جس پر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ گرے لسٹ سے نکلنے پر پاکستان کو معاشی مسائل سے چھٹکارہ ملے گا اور گرے لسٹ سے نکلنا پاکستان کی اجتماعی کامیابی ہے۔ عظیم قربانیوں کے نتیجے میں یہ بڑی کامیابی ملی۔ صدق دل کے ساتھ ان افراد اور اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی والے پرویز الہیٰ کا خیال رکھیں، کہیں اور نہ چلے جائیں، خواجہ آصف
شہباز شریف نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے اس حوالے سے اہم کردار ادا کیا ان کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جب ہم اپوزیشن میں تھے تو فیٹف کے حوالے سے قانون سازی ہو رہی تھی۔ یہ قومی معاملہ تھا جس سے پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی قسمت جڑی ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پوری طرح اسمبلی اور سینیٹ میں بل پر حکومت کا بھرپور ساتھ دیا اور ہم نے انتہائی تحمل سے طعنے برداشت کیے۔ مجھے توشہ خانہ کیس کے فیصلے پر خوشی نہیں بلکہ یہ لمحہ فکریہ ہے۔ تخمینہ لگائے بغیر تحفے میں ملنے والی گھڑی کو بازار میں بیچ دیا گیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پوری زندگی عمران خان نے دوسروں کو چور کا طعنہ دیا لیکن عمران خان خود توشہ خانہ کیس میں سرٹیفائیڈ چور ثابت ہو گئے انہوں نے دوست ممالک سے ملنے والے تحفے بیچ کر پیسے جیب میں ڈال لیے جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ وہ پیسے قومی خزانے میں جمع کراتے۔ فیصلے کے مطابق عمران خان بدعنوان ثابت ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے جو تحفے ملے وہ میں نے وزیر اعظم ہاؤس میں رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں میریٹ کی دھجیاں بکھیرنے کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔ عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر سے متعلق کہا تھا کہ وہ ایماندار آدمی ہیں اور ان کا نام عمران خان نے ہی تجویز کیا تھا۔
سیلاب متاثرین پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلاب متاثرین آج کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور پاکستان کے مسائل دھرنوں سے حل نہیں ہوں گے۔ ہم بھی فرشتے نہیں ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان ہر کسی کو کہتے تھے کہ میں چھوڑوں گا نہیں اور خود آپ نے توشہ خانے کے تحائف نکال کر بیچ دیئے۔ ایک تحفہ دبئی میں بیچ دیا جو گھڑی 14 سے 15 کروڑ روپے کی تھی۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن کو بتایا نہیں کہ تحفے میں نے بیچ دیئے ہیں اور اسٹیٹ بینک نے کھوج لگایا تو انہوں نے بینک کا نام دیا اور غلط اکاؤنٹ نمبر دیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان بات جمہوریت کی کرتے ہیں لیکن سوچ ڈکٹیٹر کی رکھتے ہیں۔ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں حکومت آئین اور قانون کے مطابق کام کرتی رہے گی۔
