اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے قائم مقام گورنر بننے اور ایڈووکیٹ جنرل کی برطرفی کی سمری پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔
حکومت کی جانب سے قائم مقام گورنر کا چارج لینے اور ایڈووکیٹ جنرل کی برطرفی کی سمری پنجاب اسمبلی بھجوائی گئی تاہم اسپیکر پنجاب اسمبلی نے دونوں سمریوں پر ی آئینی ماہرین سے مشاورت کے بعد دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔
ترجمان ق لیگ کے مطابق سمری پر دستخط کے لیے آئے گورنر ہاؤس کے عملے کو واپس بھیج دیا ، جس طرح گورنر ہاوس کے باہر پولیس تعینات کی گئی ہے ان حالات میں وہاں کون جائے گا۔
ترجمان کے مطابق اسپیکر چودھری پرویز الہٰی پنجاب اسمبلی سے روانہ ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے کردار کی تاریخ ہمیشہ مذمت کرتی رہے گی، مریم اورنگزیب
دوسری جانب اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے برطرف گورنر عمر سرفراز چیمہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور عمر سرفراز چیمہ سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مسلم لیگ ن کے غیرآئینی اقدامات کی مل کر بھر پور مزاحمت پر اتفاق کیا۔
چودھری پرویز الہیٰ نے کہا کہ مسلم لیگ ن بدترین آئین شکنی کی مرتکب ہو رہی ہے جبکہ ہم آئین اور قانون کی حفاظت کریں گے۔
عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ ہمیشہ آئین کی سر بلندی کو سامنے رکھا ہے۔
