وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیٹرول باہر سے منگواتے ہیں ہمارے پاس اپنا تو کوئی ذریعہ نہیں، عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے.
فواد چوہدری نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کابینہ نہیں کرتی، یورپ امریکا تناؤکی وجہ سےعالمی منڈی میں تیل مہنگا ہورہا ہے، ہم کتنی دیرتک پٹرول کی قیمتیں روک سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت اداروں کوساتھ لےکرچل رہی ہے، وزیراعظم کا عدلیہ کے ساتھ رویہ بہت اچھا ہے، سابق وزیراعظم کوعدلیہ نے بلایا تو انہوں نےعدالت پرحملہ کردیا تھا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت نےایک روپےکی ویکسین نہیں منگوائی، وفاقی حکومت نے سندھ کو کورونا ویکسین فراہم کی ہے، کراچی میں ویکسی نیشن کا عمل دیگر شہروں کے مقابلے بہتر نہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ پشاور اور ڈی آئی خان کے الیکشنز میں مسترد ووٹوں کی تعداد زیادہ ہے، چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن انتخابات میں ای وی ایم استعمال کرے، ای وی ایم کے استعمال سے کوئی بھی ووٹ مسترد نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پرگھٹیا زبان استعمال کی جا رہی ہے،اس سے متعلق قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے، نفرت انگیزمہم چلانے پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی ، اگران کیسزمیں کسی کو پکڑا جائے تو 2 دن بعد ضمانت ہو جاتی ہے، سوشل میڈیاکے حوالے سےسخت قوانین بنائے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں وزیراعظم نے جو بلوچستان میں 15 فیصد تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا اس کی وفاق کے ایک سے 19 اسکیل تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دی گئی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن 3 سال میں 13 بارحکومت گرانے کی کوشش کر چکی ہے، فضل الرحمان، شہبازشریف اور بلاول بھٹو میں حکومت ہٹانے کی سکت نہیں۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ 6، پیپلزپارٹی 5 ڈویژن کی پارٹی ہے، ان کے اکٹھے ہونے کا مقصد مقدمات سے توجہ ہٹانا ہے، اگر بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز پاکستان کا مستقبل ہیں تو یہ سوچنے والی بات ہے۔
