سعودی عرب میں سائنسدانوں نے سات ہزار قدیم انسانوں اور جانوروں کی ہڈیاں دریافت کر لی ہیں۔
سائنسدانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ شمال مغربی علاقے اُم جرسان میں واقع ڈیڑھ کلومیٹر لمبی سرنگ میں ہڈیوں کو لگڑ بھگے گذشتہ سات ہزار سال کے دوران جمع کرتے رہے ہیں۔
جریدے آرکیالوجیکل اینڈ اینتھروپولوجیکل سائنس کی رپورٹ کے مطابق ہڈیاں بہت خوبصورتی سے محفوظ کی گئی ہیں، جن میں انسانوں سمیت مویشیوں، گھوڑوں، اونٹوں اور چوہوں کی بھی ہڈیاں شامل ہیں۔
سائنسدان میتھیو سٹیورٹ نے ٹوئٹ میں دریافت کے بارے میں آگاہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ہزاروں سال کے دوران ہڈیوں کے جمع ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاوا ٹیوب ہڈیوں کے تحفظ کے لیے بہترین ماحول مہیا کرتی ہے۔
Happy to introduce the Umm Jirsan lava tube, Saudi Arabia, in our new paper just out in AAS.
This 1.5 km long lava tube is chock-a-block with hundreds of thousands of beautifully preserved animal remains. But why? (1/n)https://t.co/BMTYTxR4da pic.twitter.com/ubCTLHVyPX
— Stewie Stewart (@StewieStewart13) July 21, 2021
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ جانور ہڈیوں کو جمع کرنے کے شوقین ہوتے ہیں، اور دوردراز سے ہڈیاں لاکر غاروں میں جمع کرتے رہتے ہیں۔ تاکہ انہیں بعد میں استعمال میں لاسکے اور نوعمر لگڑبھگوں کو خوراک کے طور پر دے سکے یا انہیں ذخیرہ کرسکے۔

سٹیورٹ نے انٹرویو میں سعودی عرب کے سخت موسم میں اس طرح محفوظ حالت میں ملنے والی ہڈیوں کی دریافت کو اہم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے خطے کی قدیم زندگی کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
