حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاکستان کیخلاف بیان دینے والے افغان مشیر امراللہ صالح سے ملاقات کو ملک دشمنی اور کشمیر الیکشن کیخلاف سازش قرار دے دیا۔
وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ نواز شریف کو پاکستان سے باہر بھیجنا خطرناک تھا، ایسے لوگ بین الاقوامی سازشوں میں مددگار بن جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی افغانستان میں را کے سب سے بڑے حلیف حمداللہ محب سے ملاقات ایسی ہی کاروائی کی مثال ہے، مودی ، محب یا امراللہ صالح، ہر پاکستان دشمن نواز شریف کا قریبی دوست ہے۔
ہم بتا رہے ہیں، افغانستان میں حالات خراب ہورہے ہیں، دنیا آنکھیں چرا رہی ہے: فواد چودھری
وزیراطلاعات فواد چودھری نے ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کے موازنے کو بے وقوفانہ قرار دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ حمد اللہ کے پاکستان مخالف بیان کے بعد پاکستانی قیادت کی ایک تصویر دکھا دیں؟ اجیت دوول سے محب تک تمام پاکستان دشمن آپ کے لندن کے محل میں کیوں پائے گئے؟
بعد ازاں اسلام آباد میں پرس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نواز شریف صاحب نے ملاقات سے پہلے اپنی پارٹی سے اجازت لی۔
انہوں نے کہا کہ ن لیگ بتائے کہ پارٹی کی سینیئر لیڈرشپ کو اس ملاقات کے حوالے سے معلوم تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مئی سے افغان مشیر سے رابطے ختم کر چکی ہے ۔
