وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان مستقبل قریب میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔
پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ہم بین المذاہب ہم آہنگی کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، ضلعی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا طاہر اشرفی وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مقرر
علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ گزشتہ پانچ ماہ سے مجھے ذمہ داری دی گئی تھی اس وقت ہمارے تعلقات عرب ممالک کے ساتھ پہلے کی نسبت بہت بہتر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصر کے ساتھ دس سال بعد تعلقات اچھے ہوئے ہیں، لیبیا کی قومی حکومت کا پاکستان نے خیر مقدم کیا ہے۔ پاکستان کی عرب اسلامی ممالک کے ساتھ خارجہ پالیسی میں کمی کو دور کیا ہے۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ پاکستان ساری دنیا کے لیے کھلا اسلامی ممالک ہے ۔ یوم پاکستان کی پریڈ میں سب کی نمائندگی تھی اس موقع پر فلسطین کا جھنڈا لہرایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت نے کشمیر کی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ اورسیز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں، کویت کا ویزہ جلد کھل جائے گا۔
علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ حکومت نے مدارس کو وزارت تعلیم کے ساتھ منسلک کرکے بہت بڑا کام کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے آس پاس کرپٹ لوگ کھڑے ہیں یہ خود نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ حکومت میں شامل ہوں تو ٹھیک کوئی اور آئے تو ان کے لیے غلط ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک میں مساجد بند نہیں ہوں گی، مولانا طاہر اشرفی
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ولانا فضل الرحمن نے پہلے کہا اسمبلیوں سے حلف نہیں اٹھائیں گے مگر ان کی جماعت نے اسمبلیوں میں حلف بھی اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا الیکشن لڑا،چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں ساتھ تھے۔
