رپورٹ(محمد حذیفہ زاہد) دنیا کا تقریباً ہر ملک اس وبا سے متاثر ہوا ہے۔ اقتصادی ماہرین کی نظر میں کورونا وائرس کی موجودہ وبا جنگِ عظیم دوم کے بعد معاشی بحران کا سب سے بڑا سبب بنے گی۔ سوال یہ نہیں کہ معاشی بحران آئے گا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اس کا دورانیہ کتنا ہوگا اور یہ کتنی گہرائی میں جاکر کسی بھی ملک کی معیشت کو جڑوں سے کھوکھلا کرے گا۔
کورونا وائرس کی معاشی تباہ کاریوں کا آغاز جنوری 2020ء سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ دسمبر کے آخر میں ووہان سے پھوٹنے والی اس وبا نے دیکھتے ہی دیکھتے عالمی مصنوعات اور خام مال کی فراہمی کو شدید دھچکا لگتا۔
آئی ایم ایف کو خدشہ ہے کہ امیر و غریب 170 ممالک رواں سال فی کس اقتصادی سرگرمی میں تنزلی کا سامنا کریں گے۔ ترقی پذیر ممالک کو یہ وبا مختلف طریقوں سے متاثر کر رہی ہے۔
کئی ممالک صنعتوں کے زیراستعمال مال برآمد کرتی ہیں۔ دنیا بھر میں کئی فیکٹریوں کی بندش کی وجہ سے اس مال کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے چنانچہ ان کی قیمتیں گری ہیں، اور کچھ معاملوں میں تو یہ تنزلی انتہائی زیادہ ہے۔
تیل اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کی طلب میں زبردست کمی ہوئی ہے کیونکہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے لیے ایندھن کی طلب کم ہوئی ہے۔ اس ایندھن کا 90 فیصد سے زائد خام تیل سے بنایا جاتا ہے۔
بین الاقوامی سرمایہ کاری:
ترقی پذیر ممالک کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے پیسہ نکالے جانے کے مسئلے کا بھی سامنا ہے۔ آئی ایم ایف کی چیف اکنامسٹ گیتا گوپی ناتھ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اندر خطرہ مول لینے کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ وہ اس سرمایہ کاری کو فروخت کر رہے ہیں جو ان کے نزدیک نسبتاً خطرناک ہے۔ اس میں ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بونڈز اور شیئرز شامل ہیں۔
اس کے بجائے وہ امریکہ، یورپ اور جاپان جیسے نسبتاً محفوظ تصور کیے جانے والے ممالک میں اپنا پیسہ لگا رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کا نتیجہ ‘دولت کے متضاد سمت میں بے مثال بہاؤ’ کی صورت میں نکلا ہے۔
غیر ملکی قرضے:
اس سے ایک اور مسئلہ بھی جنم لیتا ہے اور وہ ہے غیر ملکی قرضے۔ کسی ملک کی کرنسی کی قدر میں کمی سے اس کے لیے دیگر کرنسی میں لیے گئے قرضوں کی واپسی یا ان پر سود کی ادائیگی مہنگی ہوجاتی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں طبی بحران اور اس کے اقتصادی اثرات سے نمٹنے کے لیے دباؤ کی شکار ہیں تو قرضوں کی ادائیگی پہلے سے کم وسائل پر ایک سنگین بوجھ بن سکتی ہے۔
رقم کی منتقلی:
ترقی پذیر ممالک کو ممکنہ طور پر اس پیسے کی کمی کا بھی سامنا ہوگا جو تارکینِ وطن اپنے گھروں کو بھیجتے ہیں۔ ترسیلاتِ زر اکثر امیر ممالک سے غریب ممالک کو بھیجی جاتی ہیں اور یہ کسی خاندان کے معیارِ زندگی کے لیے اہم سہارا ہوسکتی ہیں۔
عالمی بینک کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ وبا کی وجہ سے ان میں 20 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ بینک کے مطابق خاص طور پر تارکینِ وطن اپنی ملازمتیں اور آمدنی گنوانے کے خطرے کی زد میں ہیں۔
