سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے تحت کروانے سے متعلق سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ افسوس ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز اپنے ہی معاہدے سے مکر گئیں،دونوں جماعتوں نے میثاق جمہوریت میں خفیہ طریقہ کار کو ختم کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔
سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میثاق جمہوریت کی دستاویز اب بھی موجود ہے، لیکن اس پر دستخط کرنے والی پارٹیاں اب اس پر عمل نہیں کر رہیں، آرٹیکل 63 اے کا اطلاق سینٹ انتحابات پر نہیں ہوتا،آرٹیکل 59 میں خفیہ ووٹنگ کا کوئی ذکر نہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 59 اور 226 کو ملا کر پڑھنا ہوگا، خفیہ رائے شماری میں متناسب نمائندگی نہ ہوئی تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔
اٹارنی جنرل نےکہاکہ پارٹی کے خلاف ووٹ دینے پر کوئی سزا نہیں،جس کو پارٹی کے خلاف ووٹ دینا ہے کھل کر دے،سزا صرف ووٹوں کی خریدوفروخت پر ہو سکتی ہے۔
اس سے پہلےایڈووکیٹ جنرل سندھ سلطان طالب الدین نے دلائل میں کہا کہ ریفرنس میں اٹھایا گیا سوال ہی غیرمناسب ہے، ہارس ٹریڈنگ کاسب نےسناہےکسی کے پاس شواہد نہیں، اخباری خبروں اور ویڈیوزتک ہی ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: سینیٹ انتخابات، یوسف رضا گیلانی کے کاغذات نامزدگی منظور
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کبھی سینیٹ کا الیکشن چیلنج ہوا؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ عدالت کو سیاسی سوالات سے دور رہنا چاہیے۔
اس پرچیف جسٹس نےکہاکہ آئین بذات خودایک سیاسی دستاویزہے،آئینی تشریح کرتےوقت عدالت سیاسی کام ہی کر رہی ہوتی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کاکام شفاف الیکشن کیلئےانتظامات کرناہے، پولنگ بوتھ میں نہ رشوت چلتی ہے نہ امیدوارسے کوئی رابطہ ہوتا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے سوال کیا کہ کیا الیکشن رزلٹ کے بعد ووٹ کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، اس پرایڈووکیٹ جنرل سندھ نےکہاکہ گنتی کے وقت ووٹ کو دیکھا جاتاہے،گنتی کےوقت ووٹ ڈالنےوالےکاعلم نہیں ہوتا،آئین ووٹ ڈالنےوالےکی شناحت ظاہرکرنےکی اجازت نہیں دیتا،۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نےکہاکہ کیااوپن بیلٹ سے ہارس ٹریڈنگ ختم ہوجائے گی؟ اس پرچیف جسٹس گلزاراحمد نےکہا کہ اوپن بیلٹ سے ہارس ٹریڈنگ ختم ہوگی یا نہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے اوپن بیلٹ ریفرنس میں استفسار کیا کہ کیا ووٹ کی چھان بین کی جاسکتی ہے کہ یہ قانون کے تحت کاسٹ ہوا یا نہیں؟
اس پرایڈوکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا،کسی کو اجازت نہیں دیکھے کہ ووٹر نے کس کو ووٹ دیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ، ووٹ کے سیکریسی صرف بیلٹ بکس تک ہوتی ہے، شکایت کی صورت میں کیا الیکشن کمیشن ووٹ کی شناخت کرسکتا ہے؟
، ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا ایک بات واضح ہے کہ ووٹ بنیادی ثبوت نہیں،اگر پارٹی کے خلاف ووٹ دیا اور پتا چل گیا کہ ووٹ میں نے نہیں دیا تو پیسے لینے کا الزام کیسے ثابت ہوگا۔
